پوڈ کاسٹ رابطہ میڈیا آر۔ایس۔ایس
ہمارے نشریات سنیے
خبریں
خبریں
 
ریڈیو نشریات
نشریات
انٹرویوز
عامر منظور ، عید کا پیغام
یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ترکی میں پاکستان کے سفیر عزت ماب سردار طارق عزیز الدین سے انٹرویو
پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متعلق لیاقت علی اعوان کی رپورٹ
 
یوریشیا ایجنڈہ -134
قازقسان میں یورپی سلامتی اور تعاون تنظیم OSCE کا اجلاس
وقت اشاعت 22.07.2010 13:12:36 UTC
آخری وقت اشاعت 22.07.2010 13:12:36 UTC
یورپی سلامتی اور تعاون تنظیم OSCE کے رکن ممالک کے وزرا ء خارجہ کا اجلاس 16تا 17 جولائی قازقستان کے دارالحکومت آلماتی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کرغزستان کو پولیس فورس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

یورپی سلامتی اور تعاون تنظیم OSCE کے رکن ممالک کے وزرا ء خارجہ کا اجلاس 16تا 17 جولائی قازقستان کے دارالحکومت آلماتی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں OSCE کے56 رکن ممالک کے وزراء خارجہ یا پھر نائب وزراءخارجہ نے شرکت کی۔ دو روز جاری رہنے والے اجلاس میں ترکی کی نمائندگی وزیر خارجہ احمد داؤد اولو نے کی۔ یہ اجلاس OSCE کے موجودہ چیرمین قازقستان کی قیادت میں منعقد ہونے والا جامع ترین اجلاس تھا۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والے وزا ء سے خطاب کرتے ہوئے قازقستان کے صدر نور سلطان نظر بائیف نے کہا کہ OSCE صرف سرد جنگ کےے دنوں ہی میں نہیں بلکہ اس کے بعد بھی گلوبل سطح پر سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں فعا ل ہونے کی ضرورت ہے

علاوہ ازیں آذربائیجان اور آرمینیا کے وزراء کی شرکت سےروس ، امریکہ اور فرانس پر مشتمل منسک گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ ان اہم مذاکرات میں آرمینیا کی عدم موافقت کی وجہ سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور کسی مشترکہ متن پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے وزراء خارجہ نے سب سے پہلے کرغزستان کی صورت حال پر غور کیا ۔ OSCEکے اجلاس میں کرغزستان میں امن و امان کے قیام میں مددگار ہونے کے لیے ملک کے جنوب میں فرائض ادا کرنے کی غرض سے باون پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک پولیس فورس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ کرغزستان کی منظوری سے اس فورس کو اوش اور جلال آباد میں متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس فورس میں مزید نفری روانہ کرنے سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اس فورس کے علاقے میں قیام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ۔

اجلاس میں جس دیگر اہم موضوع کی طرف توجہ دی گئی وہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پیدا ہونے والےاختلافات اور بالائی قارا باغ کا موضوع تھا تاہم اس موضوع سے متعلق کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا گیا ۔ گزشتہ دو ماہ سے بالائی قارا باغ کی سرحدوں کے قریب ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں امید کی جو کرن نظر آرہی تھی ان جھڑپوں سے اس امید کی کرن کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور الہام علی ایف اور سرض سارکسیان کے درمیان جنوری 2009 تا 2010 کی درمیانی تاریخوں کے دوران آٹھ بار ملاقات ہوچکی ہے اور ان مذاکرات کے بعد دونوں رہنماوں کی طرف سے اس مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے بارے میں مطابقت پائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس موضوع سے متعلق بیان دیتے ہوئے آذربائیجان کے صڈر الہام علی ایف نے کہا کہ قارا باغ کو آذر بائیجان سے الگ کرنے والے کسی بھی منسوبے کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آذر بائیجان کی علاقائی سلامتی کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا ہےاور مذاکرات میں بھی اس مو ضوع کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کی علاقائی سلامتی کو تمام ممالک ہی نے تسلیم کررکھا ہے اس لیے آرمینیا جس نے آذربائیجان کی سرزمین کے کچھ حصے پر قبضہ کررلکھا ہے کو اپنا انخلا کرنے کی ضرورت ہے اور پناہ گزینوں کو اپنے اپنے گھروں کو وپاس جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اپنے ملک کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ " ہمیں اپنی سرزمین جس پر دشمنوں نے قبضہ کررکھا ہے کو واگزار کروانے کے لیے ہمیں ہمیشہ ہی تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ علی ایف کا یہ بیان بین الاقوامی برادری کے لیے ایک جنگ شروع کرنے کا امکان موجود ہونے کی بنا پر بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے۔





تازہ ترین خبریں
صدائے ترکی سے متعلق ٹی آر ٹی سے متعلق ہم سے رابطہ قائم کیجیے ریڈیو فریکوئینسی میڈیا
ریڈیو TRT
ٹی وی TRT
خبریں TRT
کی تاریخ TRT
شرائط استعمال
آپ کی رائے
سیٹلائٹ نشریات کی معلومات
پروگرام شیڈول
فوٹو گیلری
سنیئے/دیکھیئے
پوڈ کاسٹ
Turkish Radio - Television Corporation Official Web Site