پوڈ کاسٹ رابطہ میڈیا آر۔ایس۔ایس
ہمارے نشریات سنیے
خبریں
خبریں
 
ریڈیو نشریات
نشریات
انٹرویوز
عامر منظور ، عید کا پیغام
یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ترکی میں پاکستان کے سفیر عزت ماب سردار طارق عزیز الدین سے انٹرویو
پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متعلق لیاقت علی اعوان کی رپورٹ
 
اہم موضوع 341
ترک امریکی تعلقات ، ترکی کے لیے نامزد امریکی سفیر کے بیانات پر ماہر کا جائزہ
وقت اشاعت 30.07.2010 14:43:34 UTC
آخری وقت اشاعت 30.07.2010 14:43:34 UTC

ترکی میں مقیم متحدہ امریکہ کے سفیر جیمز جیفری کے فرائض کی مدت کے خاتمے کے بعد امریکہ کے صد ر باراک اوباما نے ان کی جگہ جوزف ریکارڈون کو ترکی میں متحدہ امریکہ کے مجوزہ سفیر کے طور پر پیش کیا ہے ۔ تاہم ترکی کے بارے میں تیس سالہ تجربات کے مالک ریکارڈون کی تعیناتی کو حتمی شکل دینے کے لیے سینٹ کی توثیق لازمی ہے۔ اس دائرہ کار میں انہوں نے سینٹ کی خارجہ کمیٹی میں سینٹرز کے سوالات کے تفصیل کے ساتھ جوابات دیے۔ اس طرح انہوں نے ترکی کے بارے میں ذاتی اور امریکی انتظامیہ کے اہم نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے۔ اگر ترکی اور امریکہ کے درمیان حالیہ چند ماہ میں پیدا ہونے والے اختلافات کو دیکھا جائے تو ریکارڈون کے بیانات اور جائزات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ترکی میں سفیر کے طور پر تعیناتی کے امیدوار ریکارڈون کے ترکی اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل سے متعلق نظریات کو سمجھنا فائدہ مند رہے گا۔

چنکایہ یونیورسٹی کے شعبہ سیاست اور بین الاقوامی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر رمضان گیوزین کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

انقرہ میں متحدہ امریکہ کے مجوزہ سفیر جوزف ریکارڈون کے ترکی سے متعلق نظریات کا چار عنوانات کے تحت جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ۔ ترکی کے ملکی ڈھانچے کے بارے میں ان کا نظریہ یہ ہے کہ ترکی میں جمہوریت ، آئینہ داری، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا احترام موجود ہے۔ اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر سیکولر طرز حکومت پایا جاتا ہے اور اقتصادی لحاظ سے ترکی ایک متحرک اور جدید ملک ہے۔ ترکی کے ملکی ڈھانچے کے بارے میں امریکہ کے یہ نظریات انتہائی مثبت ہیں۔

امریکہ ترکی سے سٹریٹجیک وابستگی رکھتا ہے۔ ترکی مندرجہ ذیل خصوصیات کے ساتھ ساتھ نیٹو ، جی 20 اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بھی رکن ہے۔ یہ تیز رفتار اقتصادی ترقی کی وجہ سے امریکہ کا کلیدی حلیف اور سٹریٹجیک حصہ دار ملک بھی ہے ۔ ترکی دہشت گردی کے خلاف جدو جہد ، مہلک ہتھیاروں کی روک تھام ، توانائی کی سلامتی اور علاقائی جھڑپوں کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ یہ تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی لحاظ سے جاذب نظر ملک کی حثیت اختیار کر چکا ہے ۔ علاوہ ازیں، ترکی کے خاصکر امریکی قوتوں کیلیے افغانستان اور عراق میں لوجسٹک مرکز بننے سے امریکہ کی ترکی سے وابستگی میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

تیسرا موضوع امریکہ کی ترکی سے توقعات اور متوقع کردار کی آدائگی سے متعلق ہے ۔ امریکہ ترکی کے عراق ،افغانستان ، ایران اور آرمینیا جیسے علاقائی اور مسئلہ قبرص جیسے اپنی دلچسپی کے حامل معاملات میں تعمیری کردار کی وجہ سے اس سے بڑا خوش دکھائی دیتا ہے ۔ وہ علاقے میں امن واستحکام کے قیام کے لیے ترکی کی کوششوں کی بڑی تعریف کر رہا ہے ۔

ترکی اس بات کا قائل ہے کہ ایران اور عالمی برادر ی کے مابین ثالثی کی خدمات کی انجام دہی کی ضرورت ہے جبکہ اس ضمن میں امریکہ ترکی کی مدد کا محتاج ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ ترکی کیطرف سے عراق پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرنے اور ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے ۔

امریکہ دہشت گردی تنظیم pkk کے خلاف جدوجہد میں ترکی کی حمایت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کی بھی حمایت کرتا ہے۔ چنانچہ ترکی کے توانائی کی راہداری کے مرکز بننے اور اس دائرہ کار میں ترکی اور امریکہ کے تعلقات کو مستحکم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

ریکاکرڈون نے ترکی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت ترکی کو بعض معاملات میں متنبہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ ترکی کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ فروغ دینے، ایران کے معاملے میں امریکہ کا ساتھ دینے، یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کے لیے اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کا مسئلہ قبرص کو اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار میں دو علاقائی اور دو قومی فیڈریشن کے قیام کی شکل میں حل کرنے۔ آرمینیا سے قربت پیدا کرنے اور اس کے ساتھ طے شدہ پروٹوکولز کی توثیق کرنے کی ضرورت ہے۔

فی الحال امریکہ کے ترکی کے بارے میں مثبت نظریات کی اصلیت اور ترکی سے وابستہ توقعات کو پورا کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ صحتمندانہ تعلقات کے دوام اور توقعات کے پورا ہونے کے لیے ترکی کو بھی امریکہ سے جو توقعات وابستہ ہیں انہیں بھی حقیقت کا روپ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ترکی امریکہ کے لیے انتہائی اہمیت کا احامل ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ترکی کے نظریات اور حساسیت کی طرف بھی توجہ دے۔ یہاں پر ترکی بھی امریکہ کو دو پیغامات دینا چاہتا ہے۔ پہلا پیغام یہ ہے کہ امریکہ ، ترکی میں جمہوری نظام اور قوانین کی بالادستی جیسی اقدار کے خاتمے کے لیے ہر طرح کی کوشش اور تحریک کی مخالفت کرے۔ امریکہ اور ترکی نے ماضی میں فوجی انلقلاب کے سلسلے میں جو غلطیاں سر زد کی ہیں۔ ان کو دہرانے سے گریز کریں۔ واضح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہ ترکی اور نہ ہی امریکہ کو ترکی میں فوجی انقلاب یا فوجی مداخلت کے معاملے میں ہر گز نرمی سے کام نہیں لیا چاہیے۔

مثلاً امریکہ نے سن 1980 کے فوجی انقلاب کے وقت جس مثبت مؤقف کا مظاہرہ کیا تھا اس سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ کوینکہ اس معاملے میں انتہائی حساس ترک رائے عامہ اب جمہوری نظام کے خلاف کاروائیوں کا سخت گیر جواب دینے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ریکارڈون کا یہ بیان کہ ترکی میں انقلابات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ترکی کی حساسیت کے حوالے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

دوسرا پیغام یہ ہے کہ اگر ترکی امریکہ کے لیے اسقدر اہم بین الا قوامی اور علاقائی جغرافیے کا حامل ہے اور یہ ترکی سے علاقے میں تعمیری اور پائدار کردا ر ادا کروانے کا متمنی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ترکی کے نظریات اور مشوروں پر کان دھرے اور علاقائی استحکام کے لیے بھر پور کوششوں میں مصروف ترکی کے علاقائی مسائل کے بارے میں تعمیری پالیسی کی حمایت کرے۔ زیادہ واضح الفاظ میں کچھ یوں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کو ترکی کی عراق ، شام، لبنان، فلسطین، ایران اور افغانستان جیسے ممالک کے مسائل کے حل کی پُر امن کوششوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خاصکر ترکی، ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مبادلہ معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پابندیوں کے فیصلے کی مخالفت کے مقصد اور منطق ، غزہ کے مسئلے کے حل اور اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن کے عمل کے صحیح طریقے سے جاری رکھنے کی کوششوں کا درست طریقے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اگر ترکی اور امریکہ بقول ریکارڈون دو دوست اور حلیف ممالک ہیں اور بقول صدر اوباما ماڈل حصہ دار ہیں۔ تو امریکہ کو چاہیے کہ وہ ترکی کی آواز پر کان دھرے کیونکہ دوستوں سے صلاح مشورہ فائدہ مند رہتا ہے۔ دوست ہمیشہ درست مشورہ دیتا ہے۔ خواہ وہ ہمیں برا ہی کیوں نہ لگے۔ چنانچہ ترکی کی علاقائی اور بین الاقوامی مسائل سے متعلق نکتہ چینیوں پر بالغ نظری سے توجہ دینا ہر کسی کے مفادمیں ہو گا۔





تازہ ترین خبریں
صدائے ترکی سے متعلق ٹی آر ٹی سے متعلق ہم سے رابطہ قائم کیجیے ریڈیو فریکوئینسی میڈیا
ریڈیو TRT
ٹی وی TRT
خبریں TRT
کی تاریخ TRT
شرائط استعمال
آپ کی رائے
سیٹلائٹ نشریات کی معلومات
پروگرام شیڈول
فوٹو گیلری
سنیئے/دیکھیئے
پوڈ کاسٹ
Turkish Radio - Television Corporation Official Web Site