وقت اشاعت 15.07.2010 13:18:14 UTC
آخری وقت اشاعت 15.07.2010 13:18:14 UTC
ہر پندرہ روز بعد نشر ہونے والے ہمارے اس پروگرام میں ترکی اور پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات، تازہ ترین صورت حال،ثقافتی، ادبی اور دیگر سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار اور ان کا ہمراہی وفد گزشتہ ہفتے ترکی کے سرکاری دورے پر تشریف لایا۔
انہوں نے اپنے دورے کے آغاز میں اتاترک کے مزار پر حاضری دی، مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور یاد گاری رجسٹر میں دستخط کئے۔
پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے کہ بلیو مارمرا امدادی جہاز پر حملے میں معصوم انسانوں کو نقصان پہنچا اور میں امید کرتا ہوں کہ اس معاملے میں ہرجانے کے موضوع پر جلد ازجلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
اطلاع کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے اپنے ترک ہم منصب وجدی گیونل کے ساتھ ملاقات میں بلیو مارمرا امدادی جہاز پر حملے میں ہلاک ہونے والے معصوم انسانوں کے لئےاظہار افسوس کیا ۔
انہوں نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ"ہم نےایک ترک فرم سے ایک ہزار کی تعداد میں فوجی ٹرک خریدنےکا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ضروری کاروائیاں جاری ہیں، امید ہے کہ خرید کا یہ عمل مختصر مدت میں مکمل ہو جائے گا"۔
انہوں نےکہا کہ ترکی نیشنل شپنگ پروجیکٹ میں شرکت کے موضوع پر بھی شرائط نامے سے متعلق فیصلے پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع وجدی گیونل نے سرحدی علاقے میں باقاعدہ فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ "اس منصوبے پر جنرل سٹاف میں کام کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم کو اس سلسلے میں ابتدائی معلومات فراہم کر دی گئی تھیں امید ہے کہ جلد ہی تفصیلی معلومات سے بھی انہیں آگاہ کیا جائے گا۔
متحدہ امریکہ کی طرف سے جوہری بحران کے معاملے میں ترکی کے عمل دخل نہ دینے سے متعلق دعووں پر وزیر خارجہ احمد داؤد نے بیان جاری کیا ہے۔
وزیر خارجہ احمد داؤد اولو نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ٹیلی فون پر بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے ترکی کے ایران کے موضوع میں عمل دخل نہ دیے جانے کی خواہش ظاہر کیے جانے کے دعووں کی تردید کی ہے۔
اسرائیل کی امدادی بحری جہازوں پر جارحیت کے بعد اعلان کردہ رپورٹ کا بھی جائزہ لینے والے داؤد اولو نے کہا کہ " اگر انہوں نے غلطی کرنے کا اعتراف کر لیا ہے، ہم ان سے اس ضمن ضروری کاروائی کرنے کے بھی منتظر ہیں۔"
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی اعلی نمائندہ کیتھرین آشٹن نےبھی حالیہ ایام میں اضافہ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی جنگ کو جاری رکھنا چاہیے۔
وزیر مملکت اور چیف نگوشئیٹر ایگے مین باعش نے آئینی ترامیم کے پیکیج پر اپنا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ 12 ستمبر 2010 کا روز ترکی کی یورپی یونین سے سالمیت کے سلسلے میں ایک تاریخی یوم ہو گا۔
اس سال یکم جولائی سے 11 جولائی کے دوران ہوائی سفر کے ذریعے 5 لاکھ 71 ہزار 991 سیاح انطالیہ پہنچے جبکہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک انطالیہ پہنچنے والے سیاحوں کی کل تعداد 4 ملین 3 لاکھ 36 ہزار 565 ہے۔
سال بھر میں ہوائی پروازوں کے ذریعے انطالیہ پہنچنے والے سیاحوں کی یہ تعداد حالیہ چار سالوں میں سیاحوں کی تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ سال 2008 کے اسی مہینے میں ہوائی سفر کے ذریعےانطالیہ پہنچنے والے سیاحوں کی تعداد 4 ملین 56 ہزار 952 تھی تاہم گذشتہ سال یہ تعداد 3 ملین 7 لاکھ 72 ہزار 432 تھی۔
ان اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز سے لے کر اس وقت ہوائی سفر کے ذریعے انطالیہ پہنچنے والے سیاحوں کی تعداد گذشتہ سالوں کی شرح کے مقابلے میں بلند رہی۔
اس بلند شرح کی وجہ سے یہ سال سیکٹر نمائندوں کی طرف سے گولڈن ایئر کا خطاب پانے والے سال 2008 پر بھی سبقت لے گیا۔
بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا گزشتہ ہفتے تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے جہاں وہ اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سےمذاکرات کیے ۔
بدھ کو اسلام آباد پہنچنے پر بھارتی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے دورے کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔
وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وہ پاکستان امن اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔
کسی بھارتی وزیرِ خارجہ کا ممبئی حلموں کے بعد یہ پہلا پاکستان کا دورہ ہے۔ گزشتہ ماہ جون میں بھارتی وزیر داخلہ پی چدامبرم جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔
ایس ایم کرشنا جمعرات کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد دوپہر میں ان کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کریں گے۔
دونوں رہنماوں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں ممالک نے اعتماد کی بحالی اور تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ نے مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب میں کہا تھا کہ پندرہ جولائی کو ہونے والی وزراء خارجہ کی ملاقات میں تمام مسائل پر کھل کر بات ہوگی۔
بھارتی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں سے ملاقات بھی کریں گے۔
منگل کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دورے میں اب کی بار بھی کسی بڑے ’بریک تھرو‘ کی توقع نہیں ہے۔
دونوں ممالک میں ممبئی حملوں کے بعد بات چیت کا سلسلہ معطل ہوگیا تھا۔ بعد میں عالمی برادری کی کوششوں سے بات چیت تو بحال ہوگئی ہے لیکن پاکستانی خواہش کے مطابق یہ جامع مذاکرات کی بحالی نہیں ہے۔
ممبئی حملوں سے قبل دونوں ہمسایہ ممالک جامع مذاکرات میں مصروف تھے جن میں تمام متنازعہ معاملات پر بات ہو رہی تھی۔
پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے مارچ کے آخر میں بھوٹان میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور اعتماد سازی کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔