پوڈ کاسٹ رابطہ میڈیا آر۔ایس۔ایس
ہمارے نشریات سنیے
خبریں
خبریں
 
ریڈیو نشریات
نشریات
انٹرویوز
عامر منظور ، عید کا پیغام
یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ترکی میں پاکستان کے سفیر عزت ماب سردار طارق عزیز الدین سے انٹرویو
پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متعلق لیاقت علی اعوان کی رپورٹ
 
ثقافتی سرگرمیاں 187
استنبول میں ایک نیا عجائب گھر، نارنجی کی جگہ ایووکاڈو کی کاشت
وقت اشاعت 30.07.2010 14:55:11 UTC
آخری وقت اشاعت 30.07.2010 15:16:32 UTC
"ناقابل تغیر واحد چیز بذاتِ خود تغیر پذیری ہے۔ "یہ الفاظ ایفس کے فلاسفر ہیرا کلیتوس نے کہا تھے۔ ۔ان کی طرح ایفس سے تعلق رکھنے والے سقراط سے قبل کے فلاسفروں میں شمار کیے جانے والے اناطولیہ کے ایک قدیم دور کے فلاسفر کے ان الفاظ سے اکتفا نہ کرنا ناممکن ہے۔ تغیر ؛ نہ صرف انسانوں ، بلکہ ممالک، اداروں، رہائشی علاقوں اور ان مقامات پر موجود عمارتوں کو بھی اپنے زیر ِاثر لیتے ہوئے تبدیلی کے عمل سے گزارتا ہے۔ اناطولیہ ایجنسی کی استنبول بلدیہ کےبارے میں خبر کے مطابق تاریخی رامی چھاؤنی بھی اسی تبدیلی کے عمل سے گزری ہے۔ اس خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے؛ سن 1980 کی دہائی میں مسلح افواج کی طرف سے استنبول بلدیہ کی تحویل میں دی جانے والی رامی چھاؤنی میں وسیع پیمانے کی تبدیلیوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ استنبول سن 2010 یورپی ثقافتی دارالحکومت کے قانون میں رامی چھاؤنی کی ازسر نو تعمیر اور ہر طرح کے منصوبے اور تعمیرات کے کام کے ایجنسی کی طرف سے سر انجام دیے جانے کی شق شامل ہے۔ ان کے مطابق رامی شہری میوزیم منصوبے کا ایک اہم حصہ ہونے والے استنبول کتب خانے کی تعمیر کو شروع کرنے والے تعاون پروٹوکول پر کچھ مدت قبل وزارتِ ثقافت و سیاحت ، استنبول بلدیہ اور استنبول 2010 یورپی ثقافتی دارالحکومت ایجنسی کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں۔

اس طرح سلطان مصطفے سوئم کے دور میں تعمیرت کروائی گئی رامی چھاؤنی کو استنبول کتب خانے کو بھ شامل کرتے ہوئے رامی شہر میوزیم کی حیثیت دی جائیگی۔ اس تبدیلی کے بعد رامی چھاؤنی کا رقبہ، عجائب گھر ، کتب خانے، خرید و فروخت کے مقامات اور دو لاکھ مربع میٹر کے رقبے قدرتی مناظر مشتمل باغیچوں کے ساتھ استنبول کے باسیوں کی توجہ کے مراکز میں شامل ہوا ہے۔

رامی چھاؤنی جس کا قدیم نام عساکرِ منصورے محمدیے چھاؤنی ہے استنبول کی تحصیل ایوب میں واقع اور 250 سالہ ماضی کا حامل ایک تاریخی مقام ہے۔ جس کو 1700 کی دہائی میں سلطان مصطفے سوئم نے بنوایا تھا۔ اٹھاوریں صدی کے اوئل میں سلطان محمود دوئم کے دور میں تعمیر نو اور وسعت دی جانے والی چھاؤنی کو اس دور سے لیکر ینی چیری افواج کا خاتمہ کرنے والے سلطان محمود دوئم کی طرف سے عساکرِ منصورے محمدیے چھاؤنی کا نام دیا گیا۔

1836 اور 1837 میں مہندس خانے طلباء کے رامی چھاؤنی میں موجد مکتبِ حاربیے کو منتقل ہونے پر اس مقام کو "فنونِ حاربیہ منصورے" کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ دور ِ جمہوریت میں بھی فوج کو خدمات فراہم کرنے والی رامی چھاؤنی سن 1980 کی پہلی دہائی میں مسلح افواج کی طرف سے سستانے اور استراحت کرنے کے مقام میں بدلنے کی شرط کے ساتھ استنبول بلدیہ کی تحویل میں دی گئی۔ اس چھاؤنی کو سن 1986 میں اس دور کے بلدیہ کے میئر کی طرف سے عبوری طور پر تھوک پھل اور خوراک فروشوں کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ جیسا کہ آپ نے بھی غور کیا ہوگا کہ سینکڑوں برسوں سے یہ مقام شروع شروع میں فوجیوں کے لیے خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پھل فروشوں کے بھی زیرِ استعمال رہا۔ اور خبر میں ذکر کردہ منصوبے کے ساتھ یہ مقام استنبول کے جاذب ِ نظر مقامات کی شکل اختیارکر لے گا۔

اناطولیہ ایجنسی کی ایک دوسری خبر کے ساتھ ہمارا آج کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ " نارنجی کی پیداوار کرنے والے کے لیے امید کی نئی کرن ایووکاڈو" کے زیر عنوان ہمارے اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق نارنجی کی پیداوار کے ترکی کے اہم ترین پیداواری مراکز میں سے مرسن مین امسال نارنجی کے انتہائی کم داموں فروخت ہونے کی بنا پر کسانوں نے ایووگاڈرو کی پیدوار شروع کر دی ہے۔

مرسن کی تحصیل ایردیملی سے منسلک موضع کارگے پینار میں 40٫000 مربع میٹر کے رقبے پر کسان علی یلدرم کی جانب سے کاشت کردہ ایووکاڈو باغات " کسانوں کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت حاصل کر گئے ہیں۔ کسانوں کے جائزاتی دورے کرتے ہوئے معلومات حاصل کرنے والے اس باغ میں پیدا ہونے والے ایووکاڈو کا امسال کا بھاؤ ڈیڑہ تا چار لیرے ہو گا۔ نارنجی کے بھاؤ میں خاصی کمی واقع ہونے کے باعث کسان اب ایووکاڈو کا ایک اچھے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایردیملی کے ایوان زراعت کے چیئرمین عدنان دولیک نے کہا ہے کہ علاقائی موسم ، ایووکاڈو کی پیداوار میں انتہائی موزوں ہونے ، کسانوں کو اس چیز کی طرف مائل کرنے اور ماڈل باغ کے جائزاتی کام کا جائزہ لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔کسان علی یلدرم کو ایک شیلڈ دیتے ہوئے اس کی پیداوار سے دیگر کسانوں کو بھی آگاہی کروانے کی خواہش کا اظہار کرنے والے عدنان دولیک نے اپنے اعلان میں کہا ہے:"ایردیملی لیموں کی پیداوار میں پیش پیش علاقہ ہے" اس پھل کو منڈی میں بھی کسی قسم کا مسئلہ درت پیش نہیں ہے۔ سوشیو۔اکانومک سطح کے بلند ہونے والے حلقے کی جانب سے زیادہ تر ترجیح کردہ ایووکارڈو کی کاشت سے کسانوں کوکافی آمدنی ہونے کا تخمیہ لگایا جا رہا ہے۔

یلدرم نے بتایا ہے کہ نارنجی کے نرخوں میں کمی کی بنا پر روایتی پیداوار کی جگہ متبادل پیدا کرنا اب نا گزیر بن چکا ہے۔ اور کسانوں کی اب ایووکاڈو سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔باغ کے ماڈل بنائے جانے والے کسان علی یلدرم نے بتایا ہے کہ وہ تقریباً 15 برسوں سے ایووکاڈو کی کاشت کر رہے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے وہ مختلف نوعیت کی اقسام کو پیدا کرنے کے تجربات کرتے رہتے ہیں۔ اور اب گزشتہ تین تا چار برسوں سے ان تجربات کے پھل کو حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام تر کسانوں کو ایووکاڈو کاشت کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ چونکہ حالیہ برسوں میں نارنجی کی کاشت سے پیداوار کرنے والوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ایووکاڈو کی سال کے تقریبا ہر مہینے میں کاشت کی جا سکتی ہے۔

ایوان ِ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق چکنائی کی مقدار، گی کلو گرام کلوری کی مقدار اور پروٹین کے حوالے سے ایووکاڈو پھل کو کئی دوسرے پھلوں پر فوقیت حاصل ہے۔ کلوری کے لحاظ سے اس کی مقدار کیلے سے تین گنا اور گوشت سے ڈیڑہ گنا زیادہ ہے۔ اس میں 10 تا 17 فیصد چکنائی اور 80 فیصد پانی کی مقدار پائی جاتی ہے۔ چکنائی کی مقدار بلند ہونے کے باوجود اس میں چکنائی کے تیزاب کی موجودگی نظام ہضم میں تیزی لاتی ہے۔ اس میں خون میں کولیسڑول کی مقدار میں کمی لانے کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں 11 مختلف اقسام کےوٹامنز اور 14 مینرلز بھی اس میں موجود ہیں۔

سامعین اس کے ساتھ ہی۔۔۔





تازہ ترین خبریں
صدائے ترکی سے متعلق ٹی آر ٹی سے متعلق ہم سے رابطہ قائم کیجیے ریڈیو فریکوئینسی میڈیا
ریڈیو TRT
ٹی وی TRT
خبریں TRT
کی تاریخ TRT
شرائط استعمال
آپ کی رائے
سیٹلائٹ نشریات کی معلومات
پروگرام شیڈول
فوٹو گیلری
سنیئے/دیکھیئے
پوڈ کاسٹ
Turkish Radio - Television Corporation Official Web Site