پوڈ کاسٹ رابطہ میڈیا آر۔ایس۔ایس
ہمارے نشریات سنیے
خبریں
خبریں
 
ریڈیو نشریات
نشریات
انٹرویوز
عامر منظور ، عید کا پیغام
یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ترکی میں پاکستان کے سفیر عزت ماب سردار طارق عزیز الدین سے انٹرویو
پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متعلق لیاقت علی اعوان کی رپورٹ
 
اتاترک کی یاد میں -29
اتاترک دسترخوان پر بحث و مباحثے کو ترجیح دینے والی شخصیت تھے
وقت اشاعت 19.07.2010 11:21:39 UTC
آخری وقت اشاعت 19.07.2010 14:15:08 UTC
تاریخ کے مختلف ادوار سے لے کر اب تک مختلف مملکتوں کے حکمرانوں، اعلیٰ شخصیات اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے دسترخوانوں پر یکجاہو کر بحث و مباحثے کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ قدیم یونانی فلاسفروں میں سے افلاطون اپنے طلبا کے ساتھ اکیڈیمی میں بحث و مباحثہ بھی کیا کرتے تھے۔ افلاطون اپنے طلبا ے ہمراہ روزمرہ کے مسائل کو عقل و منطق کے مطابق حل کیا کرتے تھے اور اس طرح حقائق کے تمام پہلووں سے جائزہ لینے کے لیے راہیں تلاش کی جاتی تھیں۔

عظیم رہنما اتاترک بھی اپنے دستر خوان پر بحث و مباحثہ کرنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ اتاترک بڑے کھلے ذہن کے انسان تھے اور بحث و مباحثہ بھی بڑے کھلے ذہن سے کیا کرتے تھے۔وہ اپنی زندگ کے معاملے میں بھی بڑے کھلے ذہن کے مالک تھے اور عوام سے کچھ بھی خفیہ نہیں رکھتے تھے۔

اس موضوع سے متعلق ان کے قریبی ساتھی یعقوب قادری قارا عثمان اولو لکتے ہیں کہ:

"اتاترک کے کھانے کی یز پر بحث و مباحثہ ہم سب کی روح اور دماغ پر بڑے گہرے نقوش چھوڑ چکا تھا۔ بد قسمتی سے ہمارے درمیان افلاطون موجود نہ تھا اگر افلاطون ہوتے تو تو وہ لازمی طور پر اتاترک کے نظریات اور بحث و مباحثے کو بھی ایک کتابی شکل دے دیتے۔

طویل عرصے تک اتاترک کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے اور ان کے کھانے کی یز پر اکثر و بیشتر موجود رہنے والے ایک دیگر مصنف رفقی اتائے اتاترک کے کھانے کی میز پر ہونے والے بحث و مباحثے کو مذاکرات کے زیر عنوان یکجا کرچکے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

"جوانی سے لے کر آخری ایام تک جو شخص بھی ان کو جانتا تھا وہ اتاترک کے ساتھ ہونے والی کھانے کی میز پر بحث و مباحثے کو نہیں بھولتا تھا۔ دوستوں کے ساتھ شام کے وقت کھانے کی یز پر جمع ہونا اور رات گئے تک بات چیت کرنا اتاترک کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا تھا۔

تفریح و طبع کے لیے محفلیں کم ہی منعقد ہوا کرتی تھیں ۔ تمام محفلوں میں عام طور ملک کی صورت حال پر بحث و مباحثہ کیا جاتا تھا۔ ان بحث و مباحثے کے دوران ہم نے ذہنوں کو کبھی بھی تھکتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ محفلوں میں مختلف قسم کے لوگ جمع ہوا کرتے تھے جسے اتاترک بڑی خوش اسلوبی سے اس بحث و مباحثے میں شرکت کیا کرتے تھے۔ وہ محفلوں میں ترکی زبان اور ترک تاریخ کے بارے میں بھی اپنے خیالات کو پیش کیا کرتے تھے اور اس سلسلے میں وہ ان محفلوں ہی میں بلیک بورڈ استعمال بھی استعمال کرتے ہوئے اپنے نظرایات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔

اتاترک جس نے ابراہیم ایرگیون کو فیملی نام بھی عطا کیا تھا نے طویل عرصے تک اتاترک کےکھانوں کی میز پر ان کا ساتھ دیا تھا۔ ایرگیون ان محفلون سے متعلق اپنے نظریات کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

"اتاترک کے کھانے کا میز ایک دسترخوان سے زیادہ ایک اسکول سے متشابہت رکھتا تھا ۔ کھانے کے میز کو تیار کرنے کے دوران کسی بھی سورت پھولوں کی سجاوت کے ساتھ ساتھ پلیٹوں اور گلاس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اتاترک کے سامنے ایک نوٹ بک اور پن رکھ دیا جاتا تھا۔ علاوہ ازین گوشے میں ایک بلیک بورڈ بھی رکھ دیا جاتا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی ہی ساتھ چاک وغیر بھی رکھ دیے جاتے تھے۔ اس طرح یہ محفل ایک اسکول اور ایک کلاس کا منظر پیش کیا کیا کرتی تھی۔ کھانے کے میز کو تیار کرنے کے دوران مہمانوں کو بلیرڈ کے کمرے لے جایا جاتا تھا اور کبھی کبھار وقت گزارنے کے لیے اتاترک مہمانوں کے ساتےھ بلیرڈ کھیلا کرتے تھے۔ وہ بلیرڈ کے کھیل کے بڑے ماہر تھے۔

کھانے کی میز پر ہونے والی یہ صحبت رات گئے تک جاری رہتی اور صبح شفق پھوٹنے تک جاری رہتی۔ وہ مہمانوں سے زیر بحث موضوع سے متعلق ان کے نظریات جاننے کے لیے بڑے نرم انداز سے سوال کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے" جناب آپ کے اس موضوع سے متعلق کیا نظریات ہیں؟" وہ طویل سے طویل بحث و مباحثے کو بھی بڑے صبر و تحمل سے سنا کرتے تھے اور پھر دوسرے مہمانوں کو متوجہ کرتے ہوئے ان سے اس موضوع سے متعلق نظریات جاننے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ اتاترک کے کھانے پر اکثر و بیشتر بچوں کو بھی مدعو کیا جاتا تھا۔





تازہ ترین خبریں
صدائے ترکی سے متعلق ٹی آر ٹی سے متعلق ہم سے رابطہ قائم کیجیے ریڈیو فریکوئینسی میڈیا
ریڈیو TRT
ٹی وی TRT
خبریں TRT
کی تاریخ TRT
شرائط استعمال
آپ کی رائے
سیٹلائٹ نشریات کی معلومات
پروگرام شیڈول
فوٹو گیلری
سنیئے/دیکھیئے
پوڈ کاسٹ
Turkish Radio - Television Corporation Official Web Site