وقت اشاعت 11.03.2012 13:45:15 UTC
آخری وقت اشاعت 11.03.2012 13:45:15 UTC
آج بھی ہم حطیط حکومت کے بارے میں آپ سے بات کریں گے، حطیط نے 1750 قبل مسیح کے سالوں میں اناطولیہ میں حکومت قائم کی اور بعد میں اسے ایک بڑی شہنشاہی میں تبدیل کر دیا۔یہ تو اب آپ جانتے ہی ہیں کہ دنیا میں اناطولیہ کے علاوہ کوئی اور ایسی جگہ نہیں ہے جہاں اتنی کثیر تعداد میں ثقافتیں اور حکومتیں قائم ہوئی ہوں یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کوئی اور ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اس قدر زیادہ ثقافتوں کا گزر ہوا ہو، سیاسی ساختیں حکومتوں اور پھر شہنشاہیوں میں تبدیل ہوئی ہوں اور جہاں اتنی کثیر تعداد میں انسانی آبادیوں نے ایک دوسرے سے متاثر ہو کر ایک نئی شکل اختیار کی ہو۔
موجودہ دور میں اس اہم خطہ ارضی سے گزرنے والی جن اہم ترین ثقافتوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے ایک حطیط ہے ۔
حطیط کیسے قائم ہوئی اس کی کہانی ہم آپ کو گذشتہ پروگراموں میں سنا چکے ہیں۔حطیط اناطولیہ میں کہاں سے اور کیسے وارد ہوئے اس کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔حطیطوں کا ایک چھوٹی نوابی سے بتدریج ایک مرکزی حکومت کی طرف قدم بڑھانا ایک ایسی پیش رفت تھی جس نے اس دور کی تاریخ کے لئے بڑے نتائج کا راستہ ہموار کرنا تھا۔حطیط نے اس دور میں اناطولیہ میں موجود پالا، حوری اور لُووِی تہذیبوں کی زبانوں کی مشترکہ خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے سب معاشروں کے درمیان ایک متحد زبان کا رشتہ قائم کیا اور خاص طور پر لُووِیوں کی زبان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے لئے "حطیط ہائیروگلف رسم الخط " کے نام سے ایک تحریری زبان تشکیل دی۔حطیط نے بابل زبان کو بھی اپنایا ، پہلے ہزار سالہ دور تک حطیط کے زیر استعمال اس زبان کے فروغ میں بابل طرز تحریر کے اثرات بھی موجود ہیں۔ حطیط نے ۱٥۹٥ قبل مسیح کے سال میں تحریر اور گفتگو کی صلاحیت کی حامل بابل زبان کو ترقی دی اور اس حطیط طرز تحریر کو استعمال کرنا شروع کر دیا جو آج ہمارے پاس موجود ہے۔ماہرین کے اس زبان کو پڑھنے کے نتیجے میں موجودہ انسان کو حطیطوں کے بارے میں متعدد پہلووں سے اور حقیقی شواہد کے ساتھ جاننے کا موقع ملا۔
حطیط حکومت کے اناطولیہ کی بااثر حکومتوں میں سے ایک ہونے کی بنیادی وجہ بلاشبہ انتظامی شکل تھی۔اس انتظامی ڈھانچے میں بادشاہ کو بلند ترین مقام حاصل تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے راہب اور ہیڈ کمانڈر کے عہدے بھی بادشاہ کے پاس تھے۔بادشاہ اسمبلی کے اجلاسوں کی سربراہی کرتا ، قوانین کے منظوری دیتا،اسمبلی ممبران کا انتخاب کرتا یا انہیں اسمبلی سے نکالتا اور اپنے بعد تخت نشین ہونے والے شخص کا تعین کرتا تھا۔انتظامیہ کے سیاسی عناصر کو شاہی اسمبلی کے نام سے بھی اور "پین کُش" کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔پین کُش ایک ایسی شاہی اسمبلی تھی جو پہلی دفعہ حطیط دور میں دیکھنے میں آئی۔کسی قسم کے سیاسی مسئلے کے موقع پر بادشاہ پین کُشوں کو طلب کرتا تھا۔پین کُش ایسے افراد تھے جو بادشاہ کے فیصلوں پر بات کر سکتے تھے اس طرح یہ افراد بادشاہ کی مطلق العنانیت کے واحد مبصر تھے۔پین کُش انتظامیہ میں شامل ہر ایک کو مساوی حقوق حاصل تھے اور یہ افراد آزادی سے اپنی بات کہہ سکتے تھے۔
انتظامیہ کی ناگزیر شخصیات میں سے ایک ملکہ تھی۔ملکہ کو سربراہ راہبہ کے طور پر پہچانا جاتا تھا اور اگر وہ چاہتی تو اسمبلی کے اجلاس میں شامل ہو سکتی تھی، اپنے شوہر کے ساتھ کسی بھی نوعتھ کی دستاویز کی منظوری دے سکتی تھی اور غیر ملکی سفیروں کے ساتھ ملاقات کر سکتی تھی۔حکومت کواسمبلی ممبران، کمانڈر، شہزادے اور شہزادیاں اپنے متعلقہ شعبوں کے مطابق چلاتے تھے۔اس کے علاوہ حکومتی اراکین کی تعیناتی کی جاتی اور حکومت کا ان کے وسیلے سے محاسبہ کیا جاتا تھا۔
حطیط تہذیب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ عناصر میں سے ایک اس دور کا طرز تعمیر ہے۔ حطیط طرز تعمیر کی عکاسی کرنے والی عمارتوں میں ہاتوشاش ، آلاجا ہویک ، ماشات ہویوک ، زنجیرلی ، کاراتیپے اور کارگامِش کی کھدائیوں میں سامنے آئی ہیں۔۲۰۰۰ قبل مسیح کے آغاز میں حطیط سے پہلے کی تہذیبوں نےشہروں کو وادی میں ایک بلند پلیٹ فارم پر قائم کیا۔لیکن حطیط کے دور میں اس طرز تعمیر سے ہٹ کر ایک نئی رہائشی طرز تعمیر سامنے لائی گئی جسے پہاڑی شہر کہا جا سکتا ہے۔ اس کی خوبصورت ترین مثال دارالحکومت ہاتوتاش ہے۔یہ طرز تعمیر ، آخری حطیط دور میں بھی جاری رہی۔ آخری دور کی خوبصورت ترین مثال کاراتیپے ہے۔
اس دور کے گھر شہری تعمیر کا ایک اہم یونٹ ہیں اور انہیں دو منزلہ شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ عبادت گاہوں کو شاہی محلوں سے مشابہہ شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ہاتوتاش میں کی جانے والی کھدائیوں میں اسی تعمیری منصوبے کے تحت تعمیر کی جانے والی ۳۱ عبادت گاہیں سامنے آئی ہیں۔اس قدر زیادہ عبادت گاہوں سے پتا چلتا ہے کہ حطیط کےمذہب میں متعدد دیوتا موجود تھے۔حطیط تہذیب کو تشکیل دینے والے عناصر کا تعلق بہت سی مختلف ثقافتوں سے ہونے کی وجہ سے حطیط کا جو مذہب ہمارے سامنےآتا ہے وہ اعتقادات کا ایک موزائیک ہے۔تحریری ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایک اعتقادی نظام کے طور پر سامنے آنے والی نئے سال کی تقریبات حطیط رسوم وروایات میں سرفہرست ہیں۔
حطیط تہذیب کی اہم علامتوں میں سے ایک سیرامک کی چیزیں ہیں۔حطیط دور میں سیرامک کے فن نے بہت ترقی کی ، یہ فن حاطی اور حطیط ثقافتوں کی ایک مشترکہ پیداوار ہے۔ان سرامیک میں نمکیات والی مٹی اور عام طور پر ایک یا دو تین رنگ استعمال کئے گئے ہیں۔حطیط تہذیب میں مہریں ایک فن کی حیثیت اختیار کر گئیں اور ان حطیط مہروں کو تاریخ میں نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ یہ مہریں،کسی مال یا چیز کی ملکیت ظاہر کرنے ، کسی سمجھوتے، دستاویز یا اجازت نامے کی منظوری ، کسی جگہ کے داخلے کے لئے ممنوعہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے یا کسی مال کی قسم کو دکھانے کے لئے استعمال کی جاتی تھیں۔حطیط میں چھوٹے مجسموں کو بھی ایک منفرد مقام حاصل تھا۔یہ عام طور پر دیوتا یا دیویوں کے مجسمے ہیں اور ان کے اعضاء ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ان مجسموں کی شبیہہ بڑے بڑے کانوں، پھولے ہوئے گالوں، بڑی ناک، باریک یا موٹے ہونٹوں والی شبیہہ ہے۔دیوتاؤں کے سر پر کلاہ بھی بنائی گئی ہے۔
۱۲۰۰ قبل مسیح سے کچھ عرصہ بعد حطیط دور حکومت کے خاتمے کا سبب پورے طور پر ابھی تک نہیں سمجھا جا سکا۔اس موضوع پر متعدد عناصر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔حطیط تہذیب کے آخری بڑے حکمران کے دور حکومت میں عوام میں بے اطمینانی اور حطیط کے طبقہ شرفاءمیں بتدریج جھڑپیں بڑھتی چلی گئیں۔وہ تحریری حوالے جو حطیط حکومت کے قیام کے آخری سالوں سے متعلق ہیں اس بات کے ثبوت ہیں کہ اناطولیہ میں ان سالوں شدید مفلسی کا سامنا تھا اور ان سالوں میں اناطولیہ کو شام اور مصر سے بڑی مقدار میں اناج فراہم کیا گیا۔ اس دور میں اناطولیہ کی بے اطمینانیاں اور شام پر حطیط کے اثر میں کمی بھی حطیط دور حکومت کے زوال کا ایک سبب ہے۔ ایک اور رائے کے مطابق ۱۲۰۰ کے سالوں میں مغرب سے آنے والی اور سمندری قوم کے نام سے پہچانی جانے والی قوم کا قبضہ حطیط کے زوال کا سبب ہے۔ حطیط حکومت کے آخری دور میں حطیط ثقافت کو نوابیوں نے اور شہری انتظام نے کچھ عرصے تک جاری رکھا لیکن یہ سلسلہ بھی آخر اختتام پذیر ہو گیا۔