میلانیا ٹرمپ: میرے جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے

یہ واضح نہیں  ہے کہ سلووینیائی نژاد سابق ماڈل نے عوامی بیان دینے کا فیصلہ کیوں کیا، اور انہوں نے سزا یافتہ جنسی مجرم کے بارے میں کسی مخصوص الزام کی تفصیل نہیں بتائی۔

By
میلانیا ٹرمپ واشنگٹن میں مرحوم فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے حوالے سے خطاب کر رہی ہیں۔ / Reuters

امریکی فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ نے اچانک ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جیفری ایفسٹین کے استحصال کے بارے میں کسی بھی چیز  کا علم نہیں اور نہ ہی وہ خود اس سزا یافتہ جنسی مجرم کی شکار تھیں۔

55سالہ کیمروں پر کم دھکنے والی میلانیا   نے  جمعرات کو  وائٹ ہاؤس میں اس اسکینڈل جس نے طویل عرصے سے ان کے شوہر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کو پریشان رکھا ہوا ہے، کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ"جو جھوٹ کے پلندے مجھے مجرم  جیفری ایپسٹین کے ساتھ جوڑ رہے ہیں وہ آج ختم ہونے چاہئیں"۔ انہوں نے کہا، ’جو افراد میرے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں ان میں اخلاقی کسوٹیوں، انکساری اور احترام کا فقدان ہے۔‘

یہ واضح نہیں  ہے کہ سلووینیائی نژاد سابق ماڈل نے عوامی بیان دینے کا فیصلہ کیوں کیا، اور انہوں نے سزا یافتہ جنسی مجرم کے بارے میں کسی مخصوص الزام کی تفصیل نہیں بتائی۔

میلیانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایپسٹین کے ساتھ تصویروں میں نظر آ چکے ہیں، مگر انہوں نے کہا کہ  انہوں نے کہا کہ ان کی اپنے شوہر سے ملاقات  کے دو سال بعد ایپسٹین سے ملاقات ہوئی تھی۔

میلیانیا ٹرمپ نے کہا’میں ایفسٹین کی شکار نہیں ہوں۔ میری  ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات اس کی وساطت سے نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ’ایپسٹین اور میرے بارے میں جعلی تصاویر اور بیانات‘‘ برسوں سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ یہ تصاویر اور کہانیاں بالکل جھوٹ ہیں۔‘

فرسٹ لیڈی نے کانگریس سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اپپسٹین کے استحصال کے زندہ بچ جانے والوں کے لیے ایک عوامی سماعت منعقد کی جائے تاکہ ’ان متاثرین کو حلفیہ بیان دینے کا موقع ملے۔‘

ایپسٹین 2019 میں وفاقی حراست میں مردہ پایا گیا تھا جب وہ نابالغوں کے ساتھ جنسی انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا منتظر تھا، لیکن یہ اسکینڈل بار بار ٹرمپ کے  دوسرے عہدِ صدارت پر سائے کی طرح منڈلاتا  رہا ہے۔

ایپسٹین کا استحصال

گزشتہ سال کے دوران امریکی محکمہ انصاف نے ایفسٹین سے متعلق بڑے پیمانے پر دستاویزات جاری کی ہیں۔ 79 سالہ ٹرمپ نے بھی ایفسٹین کے جرائم سے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔

دستاویزات میں ایک وسیع پیمانے پر دیکھی جانے والی تصویر میں ڈونلڈ اور میلیانیا ٹرمپ کو فلوریڈا کے اپنے مار-ا-لاگو ریزورٹ میں ایپسٹین اور اس کی ساتھی غیسلین میکسویل کے ساتھ  دیکھا جا سکتا ہے۔

میلیانیا ٹرمپ نے کہا کہ’مجھے ایفسٹین کی انسانی اسمگلنگ، نابالغوں کے استحصال اور دیگر نفرت انگیز رویوں کے سلسلے میں کبھی قانونی طور پر الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی مجھے سزا دی گئی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ امریکی فرسٹ لیڈی نے ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد ایفسٹین اسکینڈل کو دوبارہ سرخیوں میں کیوں لایا۔

یہ اقدام اس سے صرف دو دن بعد آیا جب ان کے شوہر نے ایران پر مبنی امریکی-اسرائیلی جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس پر نقاد کہتے ہیں کہ اس نے آبنائے  ہرمز کو  تاحال  تہران کی جانب سے بند پڑا چھوڑ دیا ہے۔

مگر میلیانیا ٹرمپ طویل عرصے سے وائٹ ہاؤس میں ایک پوشیدہ اور اکثر پراسرار موجودگی رہی ہیں، جو عام طور پر اس قسم کے عوامی بیانات شاذ و نادر ہی دیتی ہیں ۔

آخری بار وہ پیر کے روز اپنے شوہر کے ہمراہ سینکڑوں بچوں کے ساتھ ایسٹر ایگ رول میں دیکھی گئی  تھیں۔