ایرانی ریاستی ٹی وی کے سیٹلائٹ ٹرانسمیشن پر ہیکرز کا حملہ
ایرانی ریاستی ٹی وی پر مختصر قبضے کا اشارہ تہران پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور بیرونی دباؤ کو اجاگر کرتا ہے کیونکہ احتجاجات جاری ہیں اور امریکہ-ایران تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہیکرز نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی سیٹلائٹ نشریات میں خلل ڈال کر ایسی فوٹیج نشر کی جو ملک کے جلاوطن ولی عہد کی حمایت کر رہی تھی اور سیکیورٹی فورسز سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہتھیار عوام کی طرف مت تانیں ۔ یہ ملک گیر احتجاجات کے بعد سامنے آنے والی تازہ مداخلت ہے۔
یہ ہیکنگ اتوار کی شب کی گئی، جب امریکہ اور ایران کے درمیان حکومت مخالف احتجاجات کے بعد کشیدگی بامِ عروج پر تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے سرخ لکیرکھینچ دی تھی۔
چند روز قبل جنوبی چین کے سمندر میں موجود ایک امریکی طیارہ بردار جہاز ، رات کے وقت براستہ سنگاپور آبنائے ملاکا میں داخل ہوا ۔ یہ گزر گاہ اسے مشرقِ وسطیٰ تک لا سکتی تھی۔
یہ فوٹیج اتوار کی رات اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور متعدد چینلز پر سیٹلائٹ کے ذریعے نشر ہوئی۔
ویڈیو میں ولی عہد رضا پہلوی کے دو کلپس بھی دکھائے گئے۔
بِلا کسی شواہد کے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دیگر افراد نے اپنے ہتھیار ڈال دیے اور قوم کے سامنے بیعت کی۔
ایک گرافک پر لکھا تھا: 'یہ فوج اور سیکیورٹی فورسز کے لیے پیغام ہے۔ اپنے ہتھیار عوام کی طرف مت تانیں ۔ ایران کی آزادی کے لیے قوم کے ساتھ شامل ہو جائیں۔'
غیر ملکی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج، ممکنہ طور پر اُن لوگوں کی جانب سے جو انٹرنیٹ بندش سے بچنے کے لیے اسٹار لنک سیٹلائٹس استعمال کر رہے تھے، نے دکھایا کہ ہیک ایک سے زائد چینلز پر بیک وقت جاری تھا۔ پہلوی کی مہم میں بھی یہی فوٹیج شیئر کی گئی۔
اتوار کی ہیکنگ ایرانی نشریاتی چینلز میں خلل ڈالنے کا پہلا واقعہ نہیں۔
1986 میں، دی واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ سی آئی اے نے پہلوی کے حامیوں کو ایران میں 11 منٹ کی خفیہ نشریہ کے لیے ایک منیچرائزڈ ٹیلی ویژن ٹرانسمیٹر فراہم کیا تھا جس نے اسلامی جمہوریہ کے دو اسٹیشنوں کے سگنلز پر کنٹرول
پہلوی کے والد، شاہ محمد رضا پہلوی، 1979 کی ایرانی انقلاب سے پہلے ایران چھوڑ کر ملک سے فرار ہو گئے تھے۔ پہلوی (بیٹے) نے 8 جنوری کو مظاہرین کو سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دی تھی۔
تاہم، ایران کے اندر پہلوی کو کتنی سیاسی یا عوامی حمایت حاصل ہے، یہ اب بھی ایک غیر واضح سوال ہے۔