ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب ایک دفاعی معاہدے کے قریب

پاکستانی وزیر رضا حیات حراج کا کہنا ہے کہ "تینوں ممالک ایک مسودہ معاہدے پر مشاورت کر رہے ہیں"، جبکہ ترک سربراہ دفتر خارجہ حاقان فیدان نے اس حوالے سے مذاکرات ہونے کی تصدیق کی ہے۔

By
حکام کا کہنا ہے کہ مسودہ معاہدہ مہینوں سے زیر بحث رہا ہے، جس میں ترکیہ نے اعتماد اور جامع علاقائی سلامتی تعاون پر زور دیا ہے۔ / TRT World

پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کہا  ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے تقریباً ایک سال کے مذاکرات کے بعد علاقائی سیکیورٹی تعاون میں ممکنہ گہرائی کی راہ ہموار کرنے والا ایک دفاعی معاہدہ بل تیار کیا ہے ۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت ہوئی ہے ، لیکن اس بات پر  زور دیا  ہےکہ  تاحال  کسی  معاہدے پر  دستخط نہیں ہوئے۔

پاکستانی وزیر رضا حیات ہراج نے جمعرات کو رائٹرز خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مجوزہ سہ فریقی انتظام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال اعلان کردہ دو فریقی دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔

حراج نے کہا کہ معاہدہ طے پانے سے قبل تینوں ممالک کے درمیان حتمی اتفاق ضروری ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان–سعودی عرب–ترکیہ سہ فریقی معاہدہ گزشتہ 10 مہینوں سے موجود ہے اور تینوں ممالک اس پر  غور و خوض کر رہے ہیں۔

حراج نے کہا کہ یہ بات چیت ، موجودہ بحرانی حالات میں دفاعی تعاون مضبوط کرنے میں تینوں علاقائی طاقتوں کے مشترکہ مفاد کی عکاسی کرتی ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان نے حال ہی میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں عہد کیا گیا کسی ایک ملک کے خلاف کوئی بھی جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔

جمعرات کو استنبول میں بات کرتے ہوئے ترک اعلیٰ سفارت کار فیدان نے تصدیق کی کہ بات چیت ہوئی، مگر اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک کوئی معاہدہ دستخط نہیں ہوا۔

ممکنہ سہ فریقی معاہدے کا تذکرہ  کی جانے والی میڈیارپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر ، فیدان نے کہا کہ اس گفت و شنید کو محدود اتحاد کی تشکیل کے بجائے وسیع علاقائی تعاون کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تنازعات، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کو ہوا  دینے  والی پیش رفت  سے نمٹا  جا سکے۔

فیدان نے کہا کہ تمام علاقائی  اقوام سیکیورٹی کے معاملے پر تعاونی  پلیٹ فارم تشکیل  دینے  کے لیے  یکجا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل اس وقت حل ہو سکتے ہیں جب ممالک ایک دوسرے کے بارے میں یقین رکھ سکیں۔

فیدن نے کہا کہ ہمارے صدر رجب طیب ایردوان ایک جامع پلیٹ فارم ،جو وسیع تر تعاون اور استحکام پیدا کرے، کے نکتہ نظر کے مالک ہیں ۔

فیدان نے براہِ راست پاکستان یا سعودی عرب کا نام نہیں لیا، لیکن کہا کہ ترکیہ ایسے اقدامات کے لیے کھلا ہے جو طویل المدت علاقائی سیکیورٹی اور اعتماد سازی کو فروغ دیں۔

اسلام آباد اور انقرہ کی طرف سے یہ بیانات تینوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطے کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ حکام  اس بات پر زور دے رہے ہیں  کہ گفت و شنید فی الحال  مشاورتی مرحلے میں ہے۔