ایران میں فوجی اتارنے کا امکان،امریکہ ویت نام کو نہ بھولے: ایران

ایرانی نائب وزیر خارجہ نےخبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں زمینی فوج تعینات کرتا ہے تو اسے "دوسرا ویتنام" بھگتنا پڑ سکتا ہے

By
سعید خطیب زادہ / AA

 ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں زمینی فوج تعینات کرتا ہے تو اسے "دوسرا ویتنام" بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے پیر کو شائع ہونے والے اسکائی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا  کہ بس ویتنام میں جو کچھ ہوا  اسے پڑھ لیں۔'

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو ایران میں بھی اسی طرح کا انجام بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ جن لوگوں نے انہیں اس جنگ میں گھسیٹا ہے وہ انہیں دلدل میں بھی گھسیٹ سکتے ہیں۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ایران ضروری حد تک لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور فی الحال وہ سفارتی حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز نہیں کر رہا۔

اس سینئر ایرانی سفارت کار نے مذاکرات کو مسترد نہیں کیا مگر کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی تجویز پیش کرنا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ذمہ داری ہے۔

خطیب زادہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے معاملہ کرتے وقت وہ دوبار سوچیں اور ان لوگوں کی نصیحت نہ لیں جو ایران کو نہیں جانتے، جو دہائیوں سے امریکی ٹیکس دہندگان اور امریکی فوجیوں کے خون کے ذریعے ایران کے خلاف جنگ جیتنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی رژیم کے اپنے مفادات ہیں کہ یہ جنگ سب کی قیمت پر ان کے لیے فتح ثابت ہو۔

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے خطیب زادہ نے کہا کہ وہ صحت مند اور عہدے پر فائز ہیں ۔