امن تک پہنچنا "اب کافی قریب کی بات" ہے: فیدان

روس۔یوکرین جنگ میں پائیدار امن تک پہنچنا "اب کافی قریب کی بات" ہے: وزیر خارجہ خاقان فیدان

By
فیدان نے کہا کہ اجلاس میں جنگ بندی کی نگرانی، یوکرین کی بازدارندگی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ فوجی اقدامات پر بات کی گئی۔ / AA

ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ میں پائیدار امن تک پہنچنا "اب کافی قریب کی بات" ہے۔

فیدان نے، پیرس میں رضاکار ممالک کے اتحاد کے سربراہی اجلاس کے بعد، بروز منگل ترکیہ سفارت خانے میں صحافیوں سے  بات چیت میں کہا  ہے کہ میرے خیال میں، چار سالہ روس۔یوکرین  جنگ کے بعد،  اب ہم  پائیدار امن کے کافی قریب ہیں۔ اور کچھ نہیں تو  ہم ، امن کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل  کئی شعبوں پر غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں"۔

پیرس سربراہی اجلاس  کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فیدان نے کہا ہے کہ انہوں نے، یورپی یونین، نیٹو ممالک اورعالمی  اداروں کے سربراہان کی  شرکت سے منعقدہ  اس اجلاس میں ترکیہ کے  صدر رجب طیب اردوعان کی نمائندگی کی ہے  اور  اجلاس میں "اہم امور پر بات ہوئی ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہمارے مشاہدے کے مطابق  اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ محض یوکرین میں جنگ  کے خاتمے پر مبنی  امن معاہدہ  ہی نہیں ہوگا بلکہ  نئے دور میں روس اور یورپ کے باہمی امن کے طریقہ ہائے کار کا طویل المدّتی تعین بھی کرے گا۔ اس کے  ساتھ ہی یہ مستقبل میں روس کی علاقائی پالیسیوں کی شکل متعین کرنے والا ایک جامع معاہدہ بھی ہوگا ۔

"بحیرہ اسود کی سلامتی ترکیہ  کی ذمہ داری ہے۔ اس سے زیادہ  فطری بات ممکن نہیں ہے"

فیدان نے کہا  ہے کہ مستقبل میں ممکنہ جنگ بندی کی نگرانی، یوکرین کے رسدی مال کے دفاع کو برقرار رکھنا اور  جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں  عسکری اقدامات کے امکان پر غور کرنا ان موضوعات میں شامل تھے جن پر اجلاس میں غور کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اگر  عسکری حوالے سے کہنا ضروری ہو تو پہلے دن سے ہی صدر رجب طیب اردوعان  کی ہدایات کے تحت ہماری مسلح افواج  ہمیشہ  سے اس موقف پر قائم رہی ہیں کہ  امن کی صورت میں بحری عنصر کی ذمہ داری ترکیہ سنبھالے گا۔  مجھے یقین ہے کہ اس حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

" ترکیہ  کےبحیرہ اسود میں سب سے بڑے بحری بیڑے والا نیٹو رکن ہونے کو مدّنظر رکھا جائے تو بحیرہ اسود کی سلامتی کی ذمہ داری کا ترکیہ کے پاس ہونا نہایت فطری بات ہے ... مزید جانی نقصان اور خطّے میں امن و استحکام کے لئے امید ہے کہ امن معاہدہ جلد از جلد طے پا  جائے گا"۔

فیدان نے کہا  ہےکہ منگل کو طے پانے والی ایک اور نشست میں  ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں یوکرین کی معاشی بحالی پر بات چیت کی گئی ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر صدر اردوعان کی حساسیت پر زور دیا اور کہا  ہےکہ زخم بھرنے کے معاملے میں "اور کوئی ملک ترکیہ سے زیادہ با صلاحیت  نہیں ہے"۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "ہم اپنے اور ضرورت مند لوگوں کے زخم بھرنے میں ماہر ہیں۔ اقتصادی سرمایہ کاری اور خاص طور پر انفراسٹرکچر میں ہمارے کاروباری حضرات کی مہارت انتہائی اہم ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جب امن قائم ہوگا تو ترکیہ معاشی بحالی اور ترقی میں بڑا  اہم کردار ادا کرے گا"۔

فیدان نے کہا ہے کہ انہوں نے دیگرسربراہان  کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں  اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور یورپی یونین حکام کے ساتھ ایجنڈے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

شام میں اسرائیل کے اقدامات  'اشتعالی' ہیں

فیدان نے کہا  ہے کہ انہوں نے، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ علیحدہ سہ فریقی ملاقات کے لئے پیرس میں موجود،  شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے ساتھ بھی کئی امور پر تبادلہ خیال کیاہے۔ انقرہ، ان سہ فریقی  مذاکرات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

فیدان نے کہا ہے کہ "ہم شامی اور امریکی دونوں فریقوں کے ساتھ مسلسل مشاورت میں ہیں۔ ان مذاکرات  کے بعد ہم ان سے ملے ہیں اور  ہمیں چند معاملات پر تفصیل کے ساتھ بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ آج کے اجلاس میں مذاکرات کی مرحلہ بندی اور چند روز قبل ان کی وائی پی جی کے ساتھ بات چیت کے نتائج یا ان کے خاتمے کے معاملات وغیرہ ۔ ہم نے ان امور کا بہت مفصل جائزہ لیا ہے"۔

وائی پی جی ،دہشت گرد تنظیم 'پی کے کے' کی شامی شاخ ہے

فیدان نے کہا ہے کہ انہوں نے انقرہ میں امریکی سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بریک سے بھی ملاقات کی، اور سہ فریقی مذاکرات کے بارے میں بریفنگ لی اور اپنے خیالات سے آگاہ کیا ہے۔

فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 2024 میں بشار الاسد اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بارہا شامی زمین کے حق خودمختاری کی خلاف ورزی کی جن کی دمشق  سخت مذمت کرتا چلا آیا ہے۔

شام میں اسرائیل کے اقدامات کو "تحریک انگیز" قرار دیتے ہوئے، فیدان نے کہا ہے کہ یہ خطے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور پھوٹ ڈالنے والی حکمتِ عملیوں کا حصّہ ہے۔ہم اسے واضح طور پر دیکھ رہے  ہیں۔ خطے میں استحکام کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ ضروری تشخیص کی جائے، تجزیہ کیا جائے  اور مناسب اقدامات کیے جائیں۔"

فیدان نے کہا  ہےکہ علاقائی ممالک کو اس صورتحال کو حل کرنا ہوگا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا 'غیر قانونی' ہے

صومالیہ سے الگ ہونے والے علاقے صومالی لینڈ کا حالیہ دنوں میں  اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیا جانا عالمی  غم و غصے کا سبب بنا ہے۔  اس حوالے سے فیدان نے کہا  ہےکہ یہ تل ابیب کے خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے بنائے گئے منصوبوں میں سے ایک ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون سار  نے منگل کے اوّلین اوقات میں  ، یعنی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرنےسے تقریباً دو ہفتے بعد،  صومالی لینڈ کا دورہ کیا ۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ کسی خود مختار ملک کی زمین کی تقسیم کے لئے کئے جانے والے یہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ ہمارے خطے میں 'تقسیم کرو، ٹکڑے کرو، اور قابض ہو جاؤ' جیسی پالیسیاں اب ماضی کا حصہ ہیں اور خطے کے ممالک باہم یکجہتی کے ساتھ اس کی اجازت نہیں دیں گے"۔

فیدان نے کہا  ہےکہ صومالی لینڈ اور صومالیہ کے مرکزی حکومت کے درمیان طویل عرصے سے اندرونی مسائل موجود ہیں اور اس معاملے میں  ترک وزارتِ خارجہ کے ایک سفیر کو ثالث مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، ہماری اپنی پالیسیوں اور بین الاقوامی معیاروں کے دائرے میں ہم نے ہمیشہ صومالیہ کی سرحدی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ ہم ہمیشہ سے ان کے  اپنے اندرونی مسائل پر خود اور پُر  امن طریقے سے قابو پانے کے موقف پر قائم رہے ہیں"۔

فیدان نے زور دیا  ہے کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا دراصل 'لا قانونیت ' کی علامت ہے۔ "اگر کوئی ایسی قوت، جو خود غیر قانونی عمل کا مرکز ہو، صومالی لینڈ کی حمایت کرتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ...  جیواسٹریٹجک حوالے سے اٹھایا گیا ایک  قدم  ہم اسے ایک طاقت کے مظاہرے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں"۔