ایشیا
3 منٹ پڑھنے
میانمار: ہسپتال پر فضائی حملہ، 30 افراد ہلاک
صورتحال بہت خوفناک ہے۔ فی الحال ہم نے 31 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور  ہمیں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے: وائی ہن آؤنگ
میانمار: ہسپتال پر فضائی حملہ، 30 افراد ہلاک
میانمار کے ساگینگ ریجن کے مایاکان گاؤں میں، 6 دسمبر 2025 کو، مبینہ طور پر فوجی فضائی حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں ملبہ دیکھا گیا۔ (فائل فوٹو) / AP

میانمار میں فوجی ٹولہ انتخابات سے قبل بھاری  حملے کر رہا ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود امدادی رضاکار کی آج بروز جمعرات فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملک میں ایک عسکری فضائی بمباری کے نتیجے  میں ایک ہسپتال میں 30 سے زائد افراد  ہلاک ہو گئے ہیں۔

تنازعات کی نگران گروپوں کے مطابق  عسکری ٹولے  نے2021 میں میانمار میں  مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کیا اور  10 سالہ جمہوری کا خاتمہ کر دیا  تھا۔   ملک میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے فضائی حملوں میں بھی  ہر سال بتدریج  اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ فوج نے انتخابات کو جھڑپوں کے حل کے طور پر پیش کیا اور  28 دسمبر سے انتخابات کے آغاز  کا اعلان کیا ہے لیکن باغیوں نے کہا ہے کہ وہ  اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں انتخابات  نہیں ہونے دیں گے۔

موقع پر موجود امدادی کارکن 'وائی ہن آؤنگ' نے کہا  ہےکہ بدھ کی شام کو بنگلہ دیش سے ملحقہ  صوبے 'مغربی راخائین' کے 'مراک۔یو کے جنرل اسپتال' پر ایک فوجی جیٹ نے بمباری کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "صورتحال بہت خوفناک ہے۔فی الحال ہم نے 31 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور  ہمیں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ حملے میں  68  افراد زخمی  بھی ہوئے ہیں  اور یہ تعداد بتدریج بڑھتی جائے گی"۔

رات بھر کے دوران ہسپتال کے علاوہ متعدد مقامات پر کم از کم 20 کفن پوش لاشیں دیکھی گئی ہیں۔

فوی ٹولے کے ترجمان نے موضوع کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ تقریباً پورا صوبہ، رخائین فوج  'AA' کے کنٹرول میں ہے۔ یہ ایک نسلی اقلیتی فورس ہے جو جمہوری رہنما آنگ سان سو چی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے اور ملک میں مارشل لاء  لگائے جانے سے  بہت پہلے سے علاقے میں سرگرم  ہے۔

رخائین فوج  'AA' کے شعبہ صحت نے بدھ کی رات جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ فضائی حملہ رات  کے تقریباً 9:00 بجےکیا گیا اور  حملے میں ہسپتال کے  10 مریض موقع پر 'ہلاک' ہو گئے ہیں۔

طاقتور حریف

تنازعات کے مبّصرین کے مطابق AA فوجی ٹولے کے لیے ایک طاقتور حریف ثابت ہوا ہے اور اب رخائین کی 17 تحصیلوں میں سے 3 خارج  باقی سب ان کے کنٹرول میں ہیں۔

تاہم گروپ کے عزائم زیادہ تر، خلیج بنگال کے ساحلی اور شمال میں جنگلات پوش پہاڑوں سے گھرے،  ان کے آبائی علاقے  'رخائین ' تک محدود ہیں۔

اس گروپ کو، خطے میں  اکثریتی آبادی والے مسلمان روہنگیا نسلی  گروپ کے خلاف، وحشیانہ مظالم کے ارتکاب کا بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔

دوسری طرف  فوج نے رخائین کا محاصرہ کر رکھا ہے اور عالمی خوراک پروگرام کے اگست میں جاری کردہ بیان کے مطابق اس محاصرے نے علاقے میں  انسانی بحران پیدا  کر دیا  ہے۔ علاقے میں 'بھوک اور غذائی کمی میں ڈرامائی اضافہ' دیکھا  جا رہا ہے ۔

دریافت کیجیے
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس