بین الاقوامی عدالتِ انصاف کےحکم کہ مغربی کنارہ پر اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی ہے کے دو سال بعد ، اقوامِ متحدہ نے بدھ کو کہا کہ آبادکاروں کی تشدد آمیز کارروائیاں اور علاقائی الحاق "صرف بدتر ہو رہا ہے"۔
اقوامِ متحدہ کے دفترِ حقوقِ انسانی نے کہا کہ جب اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور آؤٹ پوسٹس کی تشکیل 'اپنی بلند ترین سطح' پر پہنچ گئی ہے تو ممالک کو قبضہ ختم کرنے کے لیے اقدام کرنا ہوگا۔
دفترِ حقوقِ انسانی کی ترجمان روینا شمداثانی نے ایک بیان میں کہا"ہم اسرائیلی حکومت کے آبادکاریوں اور آؤٹ پوسٹس کی تعداد مزید بڑھانے کے اعلان اور اسرائیلی رہنماؤں کی طرف سے فلسطینی برادریوں کے خلاف انتقام اور اجتماعی سزا کے کھلم کھلا بیانات اور مغربی کنارے کو ایک دوسراغزہ بنانے کی دھمکیوں پر تشویش زدہ ہیں۔"
جولائی 2024 میں جاری کردہ ایک جامع، غیر پابند فیصلےمیں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے کہا تھاکہ اسرائیل کا دہائیوں پر محیط فلسطینی علاقوں پر قبضہ 'غیر قانونی' ہے۔
صدرِ عدلیہ نوواف سلام نے کہا کہ اسرائیل 'اپنی غیرقانونی موجودگی کو جتنا جلد ممکن ہو ختم کرنے کا پابند' ہے۔
مغربی کنارہ میں تشدد اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیل کی 'نسل کشی کی جنگ' کے آغاز کے بعد سے بڑھ گیا ہے۔
مغربی کنارےمیں غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے روزانہ کے فلسطینی دیہات پر باقاعدہ حملےمعمول بن چکے ہیں۔
شمدا ثانی نے کہا کہ گزشتہ جمعرات سے اب تک مغربی کنارہ میں آٹھ فلسطینی، جن میں ایک لڑکا بھی شامل ہے، اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہے۔
دفترِ حقوقِ انسانی کی ترجمان روینا شمداسانی نے ایک بیان میں کہا"آبادکاروں اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے، جو اکثر ایک ساتھ کارروائی کرتی ہیں، مقامی برادریوں پر حملے کیے، خاندانوں پر تشدد کیا، املاک تباہ اور ضبط کیں، اور مساجد کو نذرِ آتش کیا۔"
نقل و حمل پر پابندیاں اب سخت ہیں، جو فلسطینیوں کو ضروری خدمات تک رسائی سے روک رہی ہیں۔
ریاستوں کو فوری طور پر اقدام کرنا چاہیے
گزشتہ جمعہ کو گاؤں تل میں غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
اس کے بعد اسرائیلی فوج نے نابلس شہر اور قریبی کئی قصبوں پر چھاپے مارے، اور قابض مغربی کنارہ میں اپنے بقول 'دہشت گردی کے خلاف' آپریشن کے آغاز کے دوران درجنوں فلسطینیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔
اتوار کی رات فلسطینی حکام نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے دو مساجد کو نذرِ آتش کیا۔
شمدا ثانی نے مزید کہا کہ"اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں اور آبادکاریوں و آؤٹ پوسٹس کے قیام کی بلند ترین سطح کے پیشِ نظر تیسرے ممالک کو فلسطینی قوم کے جاری قتل اور بے دخلی کو روکنے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے فوری اور متحدہ طور پر کارروائی کرنا ہوگی" ۔
یہ بیان رمیض الکبروف، اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے نائب خصوصی رابط کار، کی طرف سے منگل کو سلامتی کونسل کو دی گئی وارننگ کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ کی صورتحال 'تیزی سے بگڑ رہی ہے'۔




















