اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
جیتنے والے کو ہر چند دن بعد اپنی جیت کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو رخصت کر دیا جائے: یائر گولن
اسرائیل کے حزب اختلاف لیڈروں نے ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی اہداف کے حوالے سے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دعوؤں پر تنقید کی اور کہا ہے کہ "وہ، اپنے ہی طے کردہ جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام" رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولن نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا X سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "جیتنے والے کو ہر چند دن بعد اپنی جیت کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو رخصت کر دیا جائے"۔
گولن نے کہا ہے کہ "نیتن یاہو دباؤ میں ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کے لئے طے شدہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے۔"
اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی ایکس سے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ"نیتن یاہو ایک بار پھر فوج کی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر لے رہے ہیں تاکہ لوگ ان کی مکمل ناکامی کو بھول جائیں۔انہوں نے اپنے بیان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کیا۔"
'اسٹریٹجک ناکامی'
یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل اپوزیشن نے جنگ بندی کے معاملے پر نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس دوران گولن نے جنگ بندی کو "اسٹریٹجک ناکامی" قرار دیا تھا۔
اسرائیل نے امریکی پُشت پناہی میں ایران کے ساتھ ہونے والی اس جنگ بندی کی حمایت کی ہے ۔ تاہم اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ لبنان پر لاگو نہیں ہوتا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے لبنان میں کشیدگی بڑھانے کی دھمکی دی اور کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں مذاکرات پر راضی ہوں گے جب حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور ایک مستقل امن معاہدہ طے پائے۔
مسلسل فوجی کارروائیوں کی وارننگ دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ "ابھی ختم نہیں ہوئی" اور دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے "بڑی کامیابیاں" حاصل کی ہیں۔
واضح رہے کہ 2 مارچ سے لبنان پر جاری بھاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 2,020 افراد ہلاک اور 6,436 زخمی ہو چکے ہیں۔