ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ میں 'روسی خطرے' کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ نیٹو نے گزشتہ دو دہائیوں سے ڈنمارک سے آرکٹک میں سیکیورٹی خطرات کو حل کرنے کی اپیل کر رکھی ہے، تا ہم وہ اس پر عمل کرنے سے قاصر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ واشنگٹن گرین لینڈ میں ‘روسی خطرے’ کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ پر کہا:"نیٹو ڈنمارک کو پچھلے بیس سال سے بتاتا چلا آ رہا ہے کہ 'تمہیں گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کرنا ہوگا۔' بدقسمتی سے، ڈنمارک اس بارے میں کچھ نہیں کر سکا۔ اب وقت آ گیا ہے، اور یہ کر دکھایا جائے گا۔"
یورپی یونین میں ڈنمارک کی صدارت اور ڈنمارک کے خارجہ امور کے وزیر نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ ، ڈنمارک کا خودمختار خطے گرین لینڈ کی ملکیت کے سوا کسی دوسرے متبادل پر راضی نہیں ہوں گے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جزیرہ برائے فروخت نہیں ہے اور وہ امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
اتوار کو نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹ اور ٹرمپ نے فون پر گرین لینڈ اور آرکٹک کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ روٹ نے کہا کہ ہم دونوں'اس معاملے پر کام جاری رکھیں گے اور میں(ٹرمپ) سے اس ہفتے داوس میں ملاقات کا منتظر ہوں۔'
گرین لینڈ طویل عرصے سے اپنی اسٹریٹجک محل وقوع اور وسیع معدنی وسائل کی وجہ سے امریکی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، نیز مبینہ طور پر روسی اور چینی سرگرمیوں کے بڑھنے کے باعث بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
ٹرمپ نے ایک نئے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت کی بنا پر واشنگٹن، یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سمیت آٹھ یورپی ممالک سے آنے والی اشیاء پر 10 فیصد محصول عائد کرے گا ۔ یہ شرح جون میں 25 فیصد تک ہو جائیگی۔
اس اعلان کے بعد، آٹھوں یورپی ممالک نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی دھمکی کی مذمت کی اور آرکٹک کی سلامتی کے لیے اپنی وابستگی کی تجدید کی۔
اس دوران، کریملن نے گزشتہ ہفتے گرین لینڈ کو قانونی طور پر ڈنمارک کا حصہ تسلیم کیا، اور جزیرے پر حالیہ صورتحال کو 'متنازع' قرار دیا۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا تھا : کہ گرین لینڈ مملکتِ ڈنمارک کا ایک خطہ ہے۔'