امریکہ: امیگریشن چھاپوں میں اضافہ

ٹرمپ انتظامیہ نے نقل مکانوں کے رہائشی  علاقے 'مین' میں  چھاپہ کاروائیاں شروع کر دیں

By
وفاقی ایجنٹوں نے 21 جنوری کو ایک رہائشی کو حراست میں لیا، جبکہ منیپولس میں ایک ICE ایجنٹ کے رینی گڈ کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد امیگریشن نافذ العمل جاری ہے۔ / Reuters

ٹرمپ انتظامیہ نے صومالیہ سمیت متعدد ممالک سے آنے والے نقل مکانوں کے رہائشی  علاقے 'مین' میں  چھاپہ کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔

رائٹرز خبر ایجنسی نے سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے کہا  ہےکہ رواں  ہفتے کے دوران ملک کی  شمال مشرقی ریاست 'مین'  میں بڑھتی ہوئی چھاپہ کاروائیوں کے ذیل میں  سو سے زیادہ وفاقی ایجنٹ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں  میں سے ایک نے کہا  ہےکہ یہ آپریشن پناہ گزینوں پر مرکوز ہوگا۔

مین کی سیاسی قیادت اور تارکینِ وطن برادریوں نے پچھلا ہفتہ اضافی امیگریشن ایجنٹوں کی آمد کے لیے تیاریاں کرتے ہوئے گزارا ہے۔

میین کی ڈیموکریٹ گورنر 'جینیٹ ملز' نے گذشتہ  ہفتے جاری کردہ بیان میں کہا تھا  کہ ریاست میں ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ  حکمت عملیوں  پر "خوش دِلی " کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔

ٹرمپ نے 2025 کے وسط سے ڈیموکریٹ  قیادت والے  شہروں اور ریاستوں میں امیگریشن قانون کے نفاذ کی کارروائیوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں، انتظامیہ کے وسیع تر امیگریشن کریک ڈاؤن کے ذیل میں، ریاستے مینیسوٹا میں   تقریباً 3,000 وفاقی ایجنٹ متعین  کئے جا چکے ہیں۔