اسرائیل نے جنوبی اور مشرقی لبنان پر حملے کرتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں
اسرائیل نے نومبر 2024 میں جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہیں اور اس نے پانچ ایسے علاقوں میں فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں جنہیں یہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے۔
اسرائیل نے لبنان کے جنوب اور مشرق کو نشانہ بنایا، یہ خاص طور پر حزبِ اللہ کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تقریباً درجنوں مقامات پر حملوں کی اطلاع دی ہے ، جن میں سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر تک کے علاقے شامل ہیں، اور یہ حملے بعض اوقات "شدید " نوعیت کے ہوتے ہیں۔
اسرائیل نے نومبر 2024 میں جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری رکھے ہیں اور اس نے پانچ ایسے علاقوں میں فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں جنہیں یہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے دستوں نے "ایک تربیتی کیمپ" کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ کیمپ حزبِ اللہ کی ممتاز ردوان فورس کے زیرِ استعمال تھا جہاں اس کے ار کان نے 'فائرنگ کی مشقیں اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے استعمال کی اضافی تربیت حاصل کی۔
بیان کے مطابق فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں میں حزبِ اللہ کے اضافی عسکری ڈھانچے کو بھی ہدف بنایا۔
حملوں کا تسلسل
جنگ بندی کے مطابق، حزبِ اللہ کو اپنی فورسز کو دریائے لیطانی کے شمالی کنارے پر منتقل کرنا تھا، جو اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے، اور وہاں اس کی عسکری انفراسٹرکچر کو تحلیل کرنا تھا۔
جمعہ کو نشانہ بنائے گئے مقامات عمومًا اس دریا کے شمال میں تھے۔
دوسری طرف، اسرائیل نے خود کو بلیو لائن کے جنوب میں پسپائی کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دن کا وقت دینے کا عندیہ دیا تھا۔
اس ہفتے کے آغاز میں بھی، اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک سلسلے وار حملے کیے تھے، اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حزبِ اللہ کے ایک تربیتی مرکز اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، نومبر 2024 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے 1,038 اسرائیلی حملوں میں کم از کم 335 افراد ہلاک اور 973 زخمی ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی امن فوج نے گزشتہ سال کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فضائی اور زمینی خلاف ورزیوں کی تعداد 10,000 سے زائد رپورٹ کی ہے۔