مسلم و مسیحی مقدس مقامات تک محدود رسائی،7 ممالک کی مشترکہ مذمت
ترکیہ اور سات دیگر ممالک نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی سخت مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں
ترکیہ اور سات دیگر ممالک نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی سخت مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں پر اسرائیل کی عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں مسجد الاقصیٰ تک مسلمان عبادت گزاروں کی رسائی روکنا شامل ہے۔
وزراء نے یروشلم میں مسلم اور عیسائی مقدس مقامات کی موجودہ قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی دوبارہ مذمت کی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جاری اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قوانین، اور موجودہ قانونی و تاریخی حیثیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں جبکہ یہ پابندیاں عبادت گاہوں تک غیر محدود رسائی کے حق کی خلاف ورزی بھی ہیں۔
وزراء نے غیر قانونی اور محدود کرنے والے اقدامات کو بھی مسترد کیا، جن میں مسیحیوں کو چرچ آف ہولی سیپلچر تک آزادانہ رسائی سے روکنا شامل ہے۔
وزراء نے مسجد الاقصیٰ کے دروازوں کو عبادت گزاروں کے لیے مسلسل 30 روز تک بند رکھنےکی بھی مذمت کی۔
انہوں نے دہرایا کہ مسجد الاقصیٰ کا پورا رقبہ جو 144 ایکڑ پر مشتمل ہے صرف مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یروشلم اوقاف اور امورِ مسجد الاقصیٰ کا ادارہ جو اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت ہے اس مقام پر واحد اختیارات رکھتا ہے۔
انہوں نے پرانے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں رسائی کی پابندیوں کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا اور اسرائیل سے مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی اپیل کی۔