تیل کی قیمتیں 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں
بین الاقوامی انرجی ایجنسی کے رکن ممالک نے اپنے ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کر لیا
خام تیل کی قیمتیں 101 ڈالر فی بیرل کو پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔
اگرچہ بین الاقوامی انرجی ایجنسی نے، اپنے 32 رکن ممالک کے درمیان ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل کھولنے پر اتفاقِ رائے طے پانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے باوجود آج بروز جمعرات تیل کی فی بیرل قیمتیں101 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہیں ۔
آبنائے ہُرمز سے گزرنے والی ترسیل میں طویل التوا کے اندیشوں کے باعث برینٹ پیٹرول کی پہلے سے طے شدہ فراہمیوں کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ شروع ہونےسے قبل کے درجے سے 38 فیصد زیادہ اضافے کے ساتھ آج دن 2 بجے سے برینٹ نے 101 ڈالر فی بیرل پر تجارت شروع کر دی ہے۔
بین الاقوامی انرجی ایجنسی کے رکن ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جو، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ توانائی کی منڈی کو سکون دینے کی خاطر، تاریخ کی سب سے بڑی مربوط فراہمی ہے۔