استنبول میں زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ماہِ نومبر میں انطالیہ میں منعقد ہونے والا COP31اجلاس ، ماحولیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔
6 تا 8 فروری کو ہونے والی تین روزہ تیاری میٹنگ نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلیوں کے فریم ورک کنونشن کی کانفرنس ، کہ جس کی میزبانی اور صدارت ترکیہ کرے گا، سے قبل بین الاقوامی مشیروں، اقوام متحدہ کے زیرو ویسٹ ایڈوائزری بورڈ کے ارکان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کویکجا کیا ۔
سمٹ کی ترجیحات اور روڈ میپ وضع کرنے کے زیر مقصد ان مذاکرات کی صدارت زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن کے صدر اور COP31 کے اعلیٰ سطحی ماحولیاتی عہدیدار صمد آعرباش نے کی۔
شرکاء نے زور دیا کہ زیرو ویسٹ کو COP31 کے ایجنڈے میں نمایاں طور پر شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا اخراج میں کمی سے براہِ راست تعلق ہے۔ اقوام متحدہ کے زیرو ویسٹ ایڈوائزری بورڈ کی رکن لارا وین ڈروٹن نے خوراک کے ضیاع کو ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج قرار دیا اور بتایا کہ عالمی سطح پر پیدا کردہ تقریباً ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔
ان کے بقول خوراک کی زنجیر میں اصلاحات گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی لاسکتی ہیں اور ساتھ ہی فضلہ، پانی اور وسائل کے انتظام سے متعلق COP31 کی ترجیحات میں بھی تعاون کر سکتی ہیں۔
وان ڈروٹن نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے ماحولیاتی اجلاس اکثر بحث و مباحثے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہے، اور انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ COP31 کی ایک کلیدی طاقت صمدآعر باش کی کوششیں ہوں گی جن کا مقصد حکومتوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو ایک ساتھ لانا اور قابلِ پیمائش اثرات کے حامل قابلِ توسیع منصوبے فراہم کرنا ہے۔
نیل خور نے کہا کہ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ 'ماحولیاتی پالیسی کو زمینی سطح پر عمل میں لایا جائے۔' انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون ماحولیاتی عہدناموں پر عمل درآمد کے لیے اہم ہوگا، اور زیرو ویسٹ اس میں کمی اور موافقت دونوں کے لیے ایک عملی آلہ ثابت ہوگا۔
خور نے میزبانی کے حوالے سے کہا کہ'انطالیہ ایک خوبصورت شہر ہے اور اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کرنے کے لیے مضبوط محلِ وقوع فراہم کرتا ہے، جو ترکیہ کے طویل ماضی اور مہمان نوازی کی روایت سے استفادہ کرتا ہے
ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز
منظم کرنے والے یہ بھی منصوبہ بنا رہے ہیں کہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کیا جائے جو دنیا بھر کے لوگوں کو ماحولیاتی عہد کرنے اور COP31 کے عمل میں دور دراز سے شرکت کرنے کے قابل بنائے گا۔
آعرباش کی جانب سے شروع کیے جانے والے اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ وسیع تر شرکت کو ممکن بنائے گا اور دنیا بھر کے افراد کو COP31 کے حصہ کے طور پر ماحولیاتی عہد کرنے کی اجازت دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ اور آسٹریلیا COP31 کے ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں، اور مزید کہا: 'میرا خیال ہے کہ زیرو ویسٹ کے میدان میں ترکیہ کے پاس سوچ کے نئے انداز اور کام کے نئے طریقے لانے کا موقع ہے جو ماحولیات کو صرف قدرتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھیں گے، بلکہ زیادہ اہم طور پر فرسٹ لیڈی امینہ ایردوان کے فلسفے' کہ یہ زندگی اور زندگانی کے بارے میں ہے اور تعلیمات کو اجاگر کریں گے ۔'
عاطف اکرام بٹ، جو اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام میں پبلک ایڈووکیسی اور کمیونیکیشن سیکشن کے سابق سربراہ ہیں، نے پوری عالمی برادری کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ 'مشترکہ بنیاد' تلاش کرے اور اس بات پر متفق ہو کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمارے عہد و وعدے عمل کا روپ دھاریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ تبدیلی لانے والے نتائج فراہم کرنے اور 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ زیرو ویسٹ میں بین الاقوامی قیادت کا مظاہرہ بھی کر سکتا ہے۔









