بنگلہ دیش: لاکھوں نوجوان پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ گئے

شیخ حسینہ کی مطلق العنانی کے بعد بنگلہ دیش میں تاریخی انتخابات، ملک کے 129 ملین رائے دہندگان کا 44 فیصد 18 سے 27 سالہ  نوجوانوں پر مشتمل ہے

By
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں 10 فروری 2026 کو قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے لوگ اپنے پولنگ اسٹیشنوں پر جانے کے لیے بس ٹرمینل پر جمع ہیں۔ / Reuters

بنگلہ دیش میں، 2024 میں طلبہ بغاوت کے ساتھ شیخ حسینہ کی مطلق العنانی کے خاتمے کے بعد، آج بروز جمعرات منعقدہ تاریخی انتخابات میں لاکھوں بنگلہ دیشی نوجوان اپنے ووٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔

18 سے 27 سالہ  نوجوان ملک کے 129 ملین رائے دہندگان کا 44 فیصد ہیں۔ان نوجوانوں  میں سے کئی کا کہنا ہے کہ حسینہ کے 15 سالہ سخت دورِ حکومت میں انہوں نے کبھی ووٹ نہیں دیا۔

معزول وزیرِ اعظم کے دورِ حکومت میں انتخابات میں  بڑے پیمانے کی دھاندلیاں کی جاتی  اور حزب اختلاف  جماعتوں پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔

پہلی دفعہ ووٹ دالنے والے 33 سالہ پروفیسر فیض اﷲ واصف نے کہا ہے کہ انہوں نے  حسینہ کے دور میں کبھی   ووٹ نہیں ڈالا کیونکہ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ووٹ ڈالنے کی ایک اور وجہ خوف اور اندیشے تھے اور مجھے انتخابات میں کوئی دلچسپی بھی محسوس نہیں ہوتی تھی"۔

بنگلہ دیش کے نوجوان ووٹروں کی اس آبادیاتی برتری نے سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہموں اور انتخابی منشوروں کی از سرِ نو ترتیب پر مجبور کر دیا ہے۔

ڈیجیٹل میدان انتخابی مہم کا مرکز بن چکا ہے اور سیاسی جماعتوں نے، فیس بک ویڈیو سے لے کر ٹک ٹاک  تک، ووٹروں تک  آن لائن رسائی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے ۔

'پرجوش'

انتخابات میں  سابق حکمران پارٹی  'عوامی لیگ' پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم  حسینہ کے دور میں دبائی گئی جماعتیں ،بنگلہ دیش نیشنل ازم پارٹی 'بی این پی'اور  ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جمعیتِ اسلامی کی  زیرِ قیادت  ایک اتحاد کی شکل میں،  انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں  ۔

ڈھاکہ یونیورسٹی  کی 21 سالہ طالبہ اشفہ بنتِ لطیف نے کہا ہے کہ ان کے والدین نے انہیں سابقہ انتخابات کے قصے سنائے ہیں جب حسینہ سے پہلے کے دور میں  پولنگ کے دن کو میلے کی طرح منایا جاتا تھا۔

اشفہ  نے کہا ہے کہ "اب جب کہ ہم نے نظام بدلنے میں کامیابی حاصل کر لی ہےمیں بہت پرجوش ہوں۔"

بغاوت کی قیادت کرنے والے طالبعلم رہنماؤں کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی 'این سی پی' نے جمعیتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔

اشفہ نے کہا  ہےکہ وہ نوجوان طالبعلم رہنماؤں سے اور بھی  زیادہ کی توقع رکھتی تھیں لیکن  پھر بھی وہ تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ "ہمیں  توقع تھی کہ نوجوان ہماری قیادت کریں گے اور کئی لحاظ سے انہوں نے کی بھی ہے۔ اگر پارٹی قائدین  ناکام ہوئے تو یہ تمام نوجوانوں کی ناکامی ہوگی۔"

2024 کی بغاوت  کی چنگاری یونیورسٹیوں سے شروع ہوئی۔ طالبعلموں نے  سول سروس میں کوٹہ نظام کے خلاف  اور اس کوٹہ سسٹم کے انہیں ملازمتوں سے محروم رکھنے کے دعوے کے ساتھ احتجاج  شروع کیا تھا۔

'عزت'

مذکورہ واقعات کے بعد ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چُکا ہے ۔ بنگلہ دیش کی معیشت ابھی بھی  نازک حالت میں ہے اور  فارغ التحصیل نوجوان  اپنی پہلی ملازمت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی انتخابی اصلاحات کمیشن کے سابق رکن اورماہرِ  انتخابات 'محمد عبدالعلیم' نے  توقع ظاہر کی ہے کہ انتخابات میں نوجوانوں کی شرکت بھاری  رہے گی۔ یہ نوجوان ووٹر  روزگار کے حصول میں درپیش احساسِ محرومی کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں تک جائیں گےاور ووٹ ڈالیں گے"۔

انتخابات میں 2000 امیدوار 350 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 1,400 پہلی بار انتخابات لڑ رہے  ہیں ۔  انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 600 سے زائد امیدوار 44 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔

یونیورسٹی پروفیسر واصف نے نئے چہروں کے بنگلہ دیش کے لئے فائدہ مند ثابت ہونے کی امید ظاہر کی اور کہا ہے کہ"ہمیں اپنے  نوجوانوں پر بہت بھروسا ہے اور ہماری امیدیں بلند ہیں۔کیونکہ  یہی نوجوان تبدیلی لائے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انہی کے ذریعے بنگلہ دیش کی سیاسی ثقافت میں بھی  بنیادی تبدیلی آئے گی"۔