مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
حماس نے خلیل الحیہ کو سیاسی بیورو کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے سینئر رکن خلیل الحیہ کو تحریک کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے یحییٰ سنوار کی جگہ لیں گے
حماس نے خلیل الحیہ کو سیاسی بیورو کا  نیا سربراہ مقرر کر دیا
حماس / AA

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے سینئر رکن خلیل الحیہ کو تحریک کے سیاسی بیورو کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے یحییٰ سنوار کی جگہ لیں گے۔

تنظیم کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیل الحیہ کو سنوار کی جگہ تحریک کے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔

خلیل الحیہ حماس کی ممتاز ترین شخصیات میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔

اسرائیل کے ہاتھوں یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد اکتوبر 2024 میں غزہ میں تحریک کی قیادت سنبھالنے والے خلیل الحیہ اس سے قبل سنوار کے نائب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

سابق سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے نائب صالح العاروری سمیت حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی ترجیحی قاتلانہ مہم کے بعد خلیل الحیہ کا پروفائل مزید نمایاں ہوا، اور تحریک کی سیاسی و تنظیمی قیادت کے لیے ان کی نامزدگی کو بڑے پیمانے پر قبول کیا گیا۔

خلیل الحیہ نے 2021 کے اندرونی انتخابات کے بعد حماس کے عرب اور اسلامی تعلقات کے دفتر کی سربراہی سنبھالی تھی۔

1960 میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ نے 1997 میں سوڈان کی یونیورسٹی آف ہولی قرآن سے سنتِ نبوی اور علومِ حدیث میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

 وہ 2006 میں غزہ شہر کے نمائندے کے طور پر فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

ان کے بیٹے حمزہ، حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کے فیلڈ کمانڈر تھے، جو 2008 میں غزہ شہر کے مشرق میں اسرائیلی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران شہید ہوئے تھے۔

20 مئی 2007 کو اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ شہر کے مشرق میں الحیہ خاندان کے اجتماع کی جگہ پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں، ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کے متعدد بھائیوں اور بیٹوں سمیت خاندان کے آٹھ افراد شہید ہو گئے تھے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے دوران خلیل الحیہ کے خاندان کے دیگر ارکان بھی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 73,000 سے زائد افراد شہید اور 173,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے"
بد امنی کی وجہ غیر ملکی افواج کی خطے میں موجودگی ہے:ایران
ایران نے ہرمز کھولنے کے لیے چھ مطالبات  کر دیئے
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
مذاکرات کے باوجود کیا اسرائیل لبنان پر حملوں کو وسعت دے گا؟
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
امریکی سفارتخانوں کا شہریوں کو مشرق وسطی کے ممالک سے روانہ ہونے کا انتباہ
ٹرمپ نے ایران پر 'بہت شدید' حملوں کا اعادہ کیا ہے اور جنگ میں 'فتح' کا عندیہ دیا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب: "کویت کے احمد الجابر فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے"
ایران کی آبنائے ہرمز میں استحکام کی بحالی کے لیے علاقائی تعاون کی اپیل
اردن نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد ڈرون مار گرایا
اسرائیل اور لبنان آئندہ ہفتے روم میں ملیں گے
امریکہ کا جارحانہ موقف سفارت کاری کو  نقصان پہنچا رہا ہے:ایران
ہمارے فوجی نیتین یاہو حکومت کی غلط پالیسیوں کی قیمت چکا رہےہیں:گولان
اسرائیل کا جنوبی شام پر حملہ،گوتیرس علاقے میں