مودی کا دورہ ملائیشیا،دو طرفہ معاہدوں پر دستخط

مودی نے اپنے ہم منصب انور ابراہیم کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں قابلِ تجدید توانائی، صحتِ عامہ اور مصنوعی ذہانت کے معاہدے شامل ہیں۔

By
بھارت-ملائیشیا / Reuters

بھارت اور ملائیشیا نے اتوار کو سیمی کنڈکٹر شراکت داری کو گہرا کرنے کا عہد کیا  ہے ۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران تجارت اور سکیورٹی روابط بڑھ رہے ہیں۔

مودی ہفتہ کو ملائیشیا پہنچے، جو ایک  دہائی سے زیادہ  کے دوران  ان کا پہلا دورہ تھا، جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب انور ابراہیم کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں قابلِ تجدید توانائی، صحتِ عامہ اور مصنوعی ذہانت کے معاہدے شامل ہیں۔

مودی نے کہا کہ "اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیوں کے ساتھ، ہم سیمی کنڈکٹرز، صحت، اور غذائی تحفظ میں اپنی شراکت داری کو آگے بڑھائیں گے,"۔

انور نے ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پوتراجایا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ ملاقات اور یہ تبادلے بہت ضروری، بہت اسٹریٹجک اور ہندوستان اور ملائیشیا کے تعلقات کو آگے بڑھانے اور مضبوط کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں ملائیشیا عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر برآمدات میں چھٹے نمبر پر ہے، جبکہ اس شعبے کا حکومتِ ملائیشیا کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے پاس بہت مضبوط سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم موجود ہے۔

وزارت نے مودی کی آمد سے پہلے ایک بیان میں کہا کہ ان شعبوں میں ان کے پاس تقریباً 30 سے 40 سال کا تجربہ ہے۔

 مودی نے کہا  کہ ہماری کمپنیاں ملائیشیا کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتی ہیں جس  میں تحقیق و ترقی اور مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹنگ پلانٹس کی تعمیر شامل ہے۔

مثال کے طور پر، بھارتی اور ملائیشیائی نیوز رپورٹس کے مطابق پچھلے جون میں ٹاٹا الیکٹرانکس عالمی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے ساتھ ملائیشیا میں کسی فیکٹری یا آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی یا ٹیسٹ پلانٹ خریدنے کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا۔

بھارت برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے 7.32 ارب ڈالر مال برآمد کیا، بنیادی طور پر انجنیئرنگ اور پیٹرولیم مصنوعات،

ملائیشیا سے درآمدات 12.54 ارب ڈالر تک تھیں، جن میں بنیادی طور پر معدنیات، نباتی تیل اور برقی مشینری و سازوسامان شامل ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ،ملائیشیا میں بھارتی نژاد آبادی بھی بڑی ہے، جو تقریباً 6.8 فیصد یا قریباً تین ملین افراد پر مشتمل ہے۔

 مودی نے کہا کہ   یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑی قوت ہےکہ باہمی  فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں وہ ہمارے تعلقات کو ایک انسانی بنیاد فراہم کرتے ہیں