فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ

جب ہماری قومی سلامتی کے بنیادی معاملات سے متعلق فیصلے کئے جا رہے تھے تو اسرائیل وہاں موجود ہی نہیں تھا: اپوزیشن لیڈر لاپڈ

By
اپوزیشن رہنما یائر لاپید کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے کیے گئے نقصان کا ازالہ کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ [فائل فوٹو] / Reuters

اسرائیل کے حزب اختلاف  لیڈر 'یائر لاپڈ' نے بدھ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کی حمایت کرنے پر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور  اس حمایت کو  'سیاسی و حکمت عملی ناکامی' قرار دیا ہے۔

لاپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' سے جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے اپنی تاریخ میں اس سے بڑی سیاسی تباہی کبھی نہیں دیکھی۔ جب ہماری قومی سلامتی کے بنیادی معاملات  سے متعلق فیصلے کئے جا رہے تھے تو اسرائیل وہاں موجود ہی نہیں تھا۔"

لاپڈ نے مزید کہا ہے کہ نیتن یاہو کے 'تکبر، غفلت اور کمزور حکمت عملی منصوبہ بندی ' کے باعث جو  نقصان ہوا ہے اس  کی تلافی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فوج اور عوام نے اپنا فرض نبھایا ہے لیکن حکومت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لاپڈ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ "فوج نے وہ سب کچھ کیا جو اس سے طلب کیا گیا تھا اور عوام نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا لیکن نیتن یاہو سیاسی اور اسٹریٹجک حوالے سے ناکام رہے ہیں اور اپنے طے کردہ کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکے۔"

یہ بیان نیتن یاہو دفتر کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ "اسرائیل، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف، فوجی حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے"۔

تاہم، نیتن یاہو دفتر نے واضح کیا  ہےکہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی 'لبنان پر لاگو نہیں ہوتی'۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ایران پر بمباری اور حملوں کو 'دو ہفتوں  کے لیے بند رکھنے'  پر رضامند ہو گئے ہیں۔