یورپی کمیشن نے پیر کے روز یوکرین کے لیے نئے دفاعی امداد کے طور پر 7.1 بلین ڈالر کی منظوری دی، جس میں ہوائی و میزائل دفاعی نظام، میزائل، گولہ بارود اور ریڈار شامل ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون در لین نےیوکرین کی یومِ آزادی کے موقع پر کہا ہے کہ ہماری حمایت و تعاون ثابت قدم اور ٹھوس ہے۔"
انہوں نے کہا کہ روس اپنے حملے تیز کر رہا ہے تو ہم یوکرین کی عوام کی حفاظت اور اس کے فضائی حدود کے دفاع میں مدد بڑھا رہے ہیں۔ یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم وہ سامان مہیا کریں گے جس کی اسے ضرورت ہے، جب اسے ضرورت ہو گی۔
یوکرین امدادی قرض
یہ فنڈنگ 105.1 بلین ڈالر کے یوکرین تعاون امداد کا حصہ ہے، جو دفاع کے لیے 70.1 بلین ڈالر اور 2026-2027 کے لیے بجٹ سپورٹ کے طور پر 35 بلین ڈالر فراہم کرتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں اور جیٹ پاورڈ ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کیف کی ہوائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور اہم دفاعی سازوسامان کی ترسیل کو تیز کرنا زیادہ ضروری بنا دیا ہے۔
کمیشن کے مطابق تازہ منظوری اس قرض کے تحت پہلے سے منظور شدہ دفاعی خریداری کے منصوبوں میں مزید 18.7 بلین ڈالر کا اضافہ کرتی ہے، جن میں سے 9.7 بلین ڈالر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
زیادہ تر خریداری یورپی دفاعی کمپنیوں سے کی جائے گی۔
کمیشن نے کہا کہ ترسیل میں اضافہ موجودہ اسٹاک استعمال کر کے، آرڈرز کی ترجیحات بدل کر اور پیداوار بڑھا کر کیا جانا چاہیے۔
اس نے مزید کہا کہ یوکرین دفاعی کمپنیوں کے ساتھ دستخط شدہ معاہدے جمع کروا کر ادائیگیوں کی درخواست کر سکتا ہے۔
کمیشن فنڈز جاری کرنے سے پہلے ان معاہدوں کا جائزہ لے گا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ EU ممبر ریاستوں اور کمیشن کے ساتھ طے پانے والی خریداریوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
$105.1 بلین کا یوکرین سپورٹ لون یورپی پارلیمنٹ اور EU کونسل نے فروری 2026 میں قائم کیا تھا۔
کمیشن کے مطابق 2022 سے اب تک EU اور اس کے رکن ممالک نے مجموعی طور پر یوکرین کو 256.9 بلین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، جس میں منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی 4.4 بلین ڈالر شامل ہے۔
برطانیہ کی حمایت کا عزم
یورپی یونین کی یہ فوجی امداد اسی دوران آئی ہے جب اینڈی برنہم پیر کو یوکرین کا دورہ کرنے پہنچے —برطانیہ کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد یہ ان کا پہلا بیرونی دورہ تھا — اور انہوں نے کیف کے لیے برطانوی حمایت کی غیر متزلزل یقین دہانی کرائی۔
برنہم کیف میں یوکرین کی یومِ آزادی، جو 24 اگست کو منائی جاتی ہے، کے موقع پر موجود ہیں، جہاں وہ یادگاری تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں اور ’کولیسیون آف دی ولنگ‘ کے اپنے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے — یہ مختلف ممالک کا وہ گروپ ہے جو یوکرین کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔
یہ دورہ ، ماسکو کے گزشتہ ہفتے برطانوی ڈراونز کے استعمال پر ’نتائج‘ کی وارننگ دینے کے بعد سر انجام پایا ہے۔
برنہم نے کہا کہ یوکرینی عوام کو برطانیہ کے ان کے ملک کے لیے عزم کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
“برطانیہ آج آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور جب تک ضروری ہو کھڑا رہے گا،” انہوں نے ایک بیان میں کہا۔ “مجھے اپنے ملک کی جانب سے یوکرین کے لیے کیے گئے تعاون پر فخر ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یوکرینی عوام یہ براہِ راست مجھ سے سنیں کہ ہماری حمایت متزلزل نہیں ہوگی۔ آخرکار، یوکرین کی سلامتی ہماری سلامتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد بھی، اور خاص طور پر ملک کی بحالی کے دوران، برطانیہ اور یوکرین کے درمیان تعلقات جاری رہیں گے۔




















