مشی گن چرچ میں فائرنگ اور آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہو گئی

پولیس نے تصدیق کی کہ عوام کو مزید کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے، لیکن متاثرین کی تعداد یا ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

The incident occurred at the Church of Jesus Christ of Latter-day Saints, about 80 km (50 miles) north of Detroit. / AP

امریکہ کی شمالی ریاست مشی گن میں ایک مورمن چرچ پر حملہ کرنے اور اسے نذرِ آتش کرنے والے مسلح شخص کے واقعے میں مزید دو لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔

گرینڈ بلینک پولیس کے چیف ولیم رینیے نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "جلے ہوئے چرچ کے ملبے تلےسے  مزید دو لاشیں برآمد ہوئی  ہیں۔" انہوں نے کہا، "اس طرح  جانی نقصان چار ہو گیا ہے۔"

یہ واقعہ ڈیٹرائٹ سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں واقع ایک  چرچ میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں آگ بھی لگی ہوئی تھی، لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آگ کا تعلق فائرنگ سے تھا یا نہیں۔

پولیس نے تصدیق کی کہ عوام کو مزید کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے، لیکن متاثرین کی تعداد یا ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ایمرجنسی عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا اور تحقیقات جاری ہیں۔

تشدد کی وبا

چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس، جس کے رہنما گزشتہ رات 101 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، نے اتوار کے حملے کو "تشدد کا المناک واقعہ" قرار دیا۔

چرچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ "عبادت گاہیں امن، دعا اور تعلق کے مراکز ہوتی ہیں۔ ہم تمام متاثرین کے لیے امن اور شفا کی دعا کرتے ہیں،"

1830 میں قائم ہونے والا مورمن چرچ خود کو ایک مسیحی ادارہ سمجھتا ہے، لیکن اس کے عقائد مورمن کی کتاب پر مبنی ہیں، جسے اس کے پیروکار بائبل کے مقابلے میں یسوع مسیح کے الفاظ کا مکمل ورژن قرار دیتے ہیں۔

حملوں کے بعد سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے، اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیں بازو کے گروہوں کو "ملکی  دہشت گرد" قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔

اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: "ہمارے ملک میں تشدد کی یہ وبا فوری طور پر ختم ہونی چاہیے!"