شام کے ایس ڈی ایف کے ساتھ انضمام کے معاہدہ پیر سے نافذ ہو جائے گا

دمشق معاہدے کے ذریعے ایک "مثبت قدم" اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دیر الزور اور رقہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شام کی صورتحال" اب پہلے جیسی نہیں  رہی۔

By
شام کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ حکومتی رٹ کو مضبوط کرے گا اور حسکہ اور قامشلی میں کشیدگی کم کرے گا۔ / AA

شام کے وزیر اطلاعات نے شمال مشرق میں ریاستی اختیار کو مضبوط کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک قدم قرار  دیتے ہوئے کہا کہ  YPG دہشت گرد گروہ کی قیادت میں ایس ڈی ایف کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ پیر سے نافذ العمل ہوگا ۔

جمعہ کو ایک نجی  ٹی وی سے انٹرویو میں حمزہ المصطفیٰ نے کہا کہ دمشق معاہدے کے ذریعے ایک "مثبت قدم" اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دیر الزور اور رقہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شام کی صورتحال" اب پہلے جیسی نہیں  رہی۔"

انہوں نے کہا کہ حاصیکہ اور قامشلی شہروں اور فوجی افواج کے ادغام کے متعلق تازہ معاہدہ 18 جنوری کو طے پائے سابقہ سمجھوتے پر مبنی ہے،  انہوں نے اس نئے معاہدے کو عملدرآمد کے عملی میکینزم کی وضاحت کرنے والا قرار دیا۔

18 جنوری کو حکومت اور YPG دہشت گرد گروہ کی قیادت میں ایس ڈی ایف نے شمال مشرقی شام میں عسکری تصادم ختم کرنے اور دجلہ کے مشرق میں اہم علاقوں پر مکمل ریاستی اختیار بحال کرنے کے زیر مقصد ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے نے فوری جنگ بندی کے ساتھ انتظامی، فوجی اور ادارہ جاتی نظام کو دمشق کے اختیار کے تحت لانے کے ایک فریم ورک کا تعین کیا تھا۔

نئے معاہدے کے تحت، المصطفیٰ نے کہا کہ YPG دہشت گرد گروہ کی قیادت میں ایس ڈی ایف کے ارکان کو وزارت دفاع کے تحت فوجی بریگیڈز میں 'انفرادی طور پر' شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عمل درآمد پیر سے شروع ہوگا، اور اسی دن حاصیکہ کے لیے نومنتخب سکیورٹی ڈائریکٹر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

المصطفیٰ نے مزید کہا کہ حکومت رمیلان اور السویدیہ تیل کے میدانوں کے ساتھ ساتھ قامشلی ہوائی اڈے کا کنٹرول دس دنوں کے اندر سنبھال لے گی۔

انہوں نے کہا کہ YPG دہشت گرد گروہ نے خود کو شامی کردوں کا واحد نمائندہ پیش کرنے اور اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔

وزیر نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں مختلف سیاسی دھاروں کے کرد وفود، بشمول کرد نیشنل کونسل، سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ کرد برادری کو متاثر کرنے والے امور پر بات چیت کی جا سکے۔

جمعہ کے اوائل میں حکومت نے کہا تھا کہ اس نے YPG دہشت گرد گروہ کی قیادت میں ایس ڈی ایف کے ساتھ ایک "جامع معاہدہ"طے کر لیا ہے جس کا مقصد اندرونی تقسیم ختم کرنا اور مکمل انضمام کی بنیاد رکھنا ہے۔