پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں 54 فیصد اضافے نے عوام کو سخت دھچکہ پہنچایا ہے
پاکستانیوں کو جمعہ کو ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کا سامنا کرنا پڑا، جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 54 فیصد تک بڑھ گئیں۔
پپاکستانیوں کو جمعہ کو ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کا سامنا کرنا پڑا، جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 54 فیصد تک بڑھ گئیں۔
یہ اضافہ ایک مالی طور پر تنگ دست قوم پر دباؤ ڈال رہا ہے جو پہلے ہی بلند مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ماہرین ِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافہ خوراک اور روزمرہ کے اخراجات کو بڑھا دے گا۔
پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم پرویز ملک نے جمعرات کو رات گئے ایک بیان میں کہا یہ اضافہ ’نا گزیر‘ تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ ماہ 20 فیصد اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 137 روپے اضافہ کرنے پر مجبور ہوئی۔
ڈیزل کی قیمتیں راتوں رات 184.49 روپے فی لیٹر بڑھا دی گئیں، جو تقریباً 54.9 فیصد کے برابر ہے۔
ملک نے کہا کہ یہ اضافہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق ’ضروری اور ناگزیر‘ تھے، اور حکومت موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایندھن کی سبسڈی دینے کا ارادہ رکھتی ہے، البتہ اس کا طریقہ کار ابھی تک حتمی نہیں ہے۔
مفت نقل و حمل
پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی تعداد گاڑیوں کی نسبت بہت زیادہ ہے اور سڑکوں پر موجود تمام گاڑیوں میں تقریباً 78 فیصد موٹر سائیکلیں ہیں، کیونکہ یہ آمد و رفت کا سب سے سستا ذریعہ ہیں۔
جمعہ کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں ہفتے سے پبلک ٹرانسپورٹ 30 دن کے لیے مفت رہے گی اور ان وزارت ایندھن کے اخراجات برداشت کرے گی۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل حاصل کرنے کے لیے متبادل راستے استعمال کیے ہیں۔
یہ بے مثال قیمتوں میں اضافہ اس کے بعد آیا جب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ علاقائی بے چینی نے پاکستان کی نازک معیشت کو متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان بات چیت کی حمایت کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔
’یہ ہر چیز کو متاثر کرے گا‘
پاکستان نے امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، حالانکہ اسلام آباد میں ایسے کسی اجلاس کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تاہم، کئی شہریوں کے لیے جاری کشیدگی اور ایندھن کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کا اثر فوری تھا، گھرانوں اور مسافروں نے نقل و حمل اور روزمرہ کے اخراجات میں اضافے کی تیاری کر لی۔
’’یہ صرف گیس کا مسئلہ نہیں ہے،‘‘ اسلام آباد میں بس کے انتظار میں موجود مسافر محمد زین علوی نے کہا۔ ’’زندگی پہلے ہی ہمارے لیے بہت مشکل تھی، اور اب ہر چیز مزید مہنگی ہو جائے گی۔‘‘
جمعہ کو بڑے شہروں میں فیول اسٹیشنز غیر معمولی طور پر خاموش تھے اور ٹریفک نمایاں طور پر کم تھی کیونکہ بہت سے لوگ گھر پر رہے، وہ زیادہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل یا تیار نہیں تھے۔
کچھ اسٹیشنوں پر، گاہک نئی قیمتیں سن کر خاموشی سے کھڑے رہے۔
’’ہم جنگ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے،‘‘ راولپنڈی سے اسلام آباد سفر کرنے والے ایک جونیئر سرکاری ملازم اظہر علی نے کہا جو پرانی موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔
’’ہم پر کیوں اس کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟ یہ ہر چیز کو متاثر کرے گا — نقل و حمل، خوراک، ہماری پوری زندگی۔’’
شمال مغربی شہر پشاور میں موٹر سائیکل سوار شیر خان نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں کے اس اچانک اضافے کے بعد انہیں اس کا یقین نہیں کہ وہ کام جاری رکھ پائیں گے یا نہیں۔
وہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں کھانا پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا۔
’’میں ہر سفر کے لیے بہت کم کماتا ہوں، اور اب اس کا ایک بڑا حصہ ایندھن پر ہی چلا جائے گا،‘‘
کراچی کے معروف ماہرِ معاشیات جبران سرفراز نے کہا کہ فوری بوجھ صارفین پر پڑے گا، اور خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ ضروریات کی قیمتیں بڑھا دے گا اور کم آمدنی والے طبقات پر غیر متناسب اثر ڈالے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات کا دورانیہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ عالمی قیمتیں کتنی تیزی سے کم ہوتی ہیں۔