امریکہ کا ایران کے خلاف جنگ کا بل 12 ارب ڈالر ہے: وائٹ ہاؤس

سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیرکیون ہیسیٹ نے کہا کہ یہ رقم اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکہ کی جانب سے خرچ کی گئی رقم کی عکاسی کرتی ہے

By
کیون ہیسیٹ / Reuters

ایک اعلیٰ وائٹ ہاؤس اقتصادی مشیر نے اتوار کو کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی پر تقریباً 12 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ انتظامیہ امریکیوں کو جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کے بارے میں مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیرکیون ہیسیٹ نے کہا کہ یہ رقم اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکہ کی جانب سے خرچ کی گئی رقم کی عکاسی کرتی ہے۔

 ہیسیٹ نے کہا 12 بلین وہ رقم ہے جس کی مجھے بریفنگ دی گئی کہ اب تک خرچ ہو چکی  ہے ۔

یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب واشنگٹن عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ تنازعہ امریکی معیشت پر قابلِ ذکر دباؤ نہیں ڈالے گا اور کانگریس سے ہنگامی فنڈنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

پینٹاگون کے اندازوں کے مطابق پہلے چھ دنوں میں جنگ کی لاگت 11.3 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی جس کی بنیادی وجہ درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور  فضائی  حملوں کا وسیع استعمال تھا۔

ہیسیٹ نے کہا کہ انتظامیہ قانون سازوں سے اضافی فنڈنگ مانگنے کی توقع نہیں رکھتی، اور ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ فوجی ذخائر حملوں کو جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں۔