مغربی کنارےمیں اسرائیلی آباد کاروں کی دہشت گردی،ترکیہ کا سخت ردعمل

ترکیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی آبادکارانہ دہشت گردی اور غیرقانونی بستیاں پھیلنے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ رجحان پائیدار امن کی امیدوں کو کمزور کر رہا ہے

By
ترک امور خارجہ / Public domain

ترکیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی آبادکارانہ دہشت گردی اور غیرقانونی بستیاں پھیلنے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ رجحان پائیدار امن کی امیدوں کو کمزور کر رہا ہے۔

ترک دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حالیہ حملے، اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے دباؤ کے ساتھ مل کرتیزی سے فلسطینیوں اور ان کے بنیادی حقوق کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وزارت نے زور دیا کہ ایسی کارروائیاں جنہیں اس نے الحاقی کارروائیاں بھی قرار دیا   دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کر رہی ہیں، جسے انقرہ علاقائی طویل المدتی استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

اس نے مزید کہا کہ آبادکاروں کی طرف سے تشدد براہِ راست فلسطینیوں کے "زندگی کے حق" کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور بستیاں بڑھانے اور حملوں دونوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

ترکیہ  نے کہا کہ ان رویّوں کا خاتمہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کے تحت ضروری ہے بلکہ خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے بھی اہم ہے۔

اقوام متحدہ اور زیادہ تر بین الاقوامی برادری مقبوضہ مغربی کنارےاور بشمول مقبوضہ مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ سمجھتی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتی ہے۔

انقرہ کے بیان میں علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ تشدد اور بستیوں کی سرگرمیاں وسیع تر اسرائیلی-فلسطینی تنازعے کو بڑھا رہی ہیں۔