امریکی حملہ ہوا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا:ایران

امور خارجہ کے ترجمان کہ محدود حملہ نہیں ہوتا،جارحانہ اقدام کو جارحیت ہی سمجھا جائے گا،  اور کوئی بھی ریاست اپنے فطری دفاعی حق کے تحت شدت سے ایسی جارحیت کا جواب دے گی اور یہی ہم کریں گے

By
ایران-امریکہ / AFP

ایران نے کہا   ہے کہ کسی بھی امریکی حملےکو جارحیت کا اقدام سمجھا جائے گا اور اس کا جواب دیا جائے گا۔

 واضح رہے کہ  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران پر محدود حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

امور خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ایک بریفنگ میں کہا میں سمجھتا ہوں کہ محدود حملہ نہیں ہوتا،جارحانہ اقدام کو جارحیت ہی سمجھا جائے گا،  اور کوئی بھی ریاست اپنے فطری دفاعی حق کے تحت شدت سے ایسی جارحیت کا جواب دے گی اور یہی ہم کریں گے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی تقویت کے بعد امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ  اگر امریکہ نے ہم پر حملہ کیا تو ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکراتی حل کے امکانات کافی اچھے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ پچھلی بات چیتوں نے حوصلہ افزا اشارے دیے ہیں۔

جنیوا میں حالیہ مذاکرات کے ایک دور کے بعد ایران نے کہا کہ وہ ایک مسودہ تجویز تیار کر رہا ہے جو فوجی کارروائی کو ٹال دے گی۔

عراقچی نے سی بی ایس کو کہا  کہ میں سمجھتا ہوں کہ ممکنہ طور پر اس جمعرات کو دوبارہ جنیوا میں جب ہم ملاقات کریں گے  تو ہم ایک اچھا متن تیار کر کے تیزی سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں