چینی برقی ٹرکوں کی دوسرےایشیائی ممالک کو برآمدات میں تیزی آ گئی ہے، جو اندرونِ ملک فروخت میں اضافے کے ساتھ مل کر اس خطے کی برقی کاری کو تیز کر رہی ہیں، اس کی ایک وجہ امریکہ کی ایران مخالف جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
ہلکے گاڑیوں سے لے کر ٹریکٹر ٹریلروں تک چین کی تیز رفتار برقی ٹرکوں کے رحجان نے دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ کو اس تنازع کے اثرات سے جزوی طور پر محفوظ رکھا ہے۔ اب دوسرے ممالک بھی تیزی سے اس کو اپنانے کے درپے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران مخالف جنگ شروع کرنے کے چار ماہ بعد، چین کے بڑے برقی ٹرکوں کی برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دو گنا سے بھی بڑھ کر 16,823 گاڑیوں تک پہنچ گئیں۔
ان کی نصف برآمدات جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کو گئیں۔
منڈیوں نے چین کے برقی ٹرکوں کے لیے دروازے کھول دیے
جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ پر تیل پر انحصار کرتے ہیں، اور خلیجِ ہرمز کی بندش نے ڈیزل کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا ہے، جس نے دنیا کے سب سے بڑے برقی ٹرک ساز چین کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے۔
GlobalPetrolPrices.com کے مطابق جنگ کے آغاز سے سری لنکا میں ڈیزل قیمتیں 48 فیصد بڑھ چکی ہیں اور فلپائن میں 57 فیصد، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں یہ اضافہ 15 فیصد تک ہے۔
Sanyکے انٹر نیشنل مارکیٹنگ کے نائب صدر ژاؤتِنگ یو نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا،"جنگ نے ان نئی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔
Sany دنیا کا سب سے بڑا بھاری برقی ٹرک بنانے والی فرم ہے۔
برآمدات نسبتاً کم سطح پر رہتی ہیں اور چین کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کی برآمدات کے مقابلے میں معمولی سطح کی ہیں، جبکہ خطے کے ٹرکوں کے بیڑے لاکھوں میں ہیں۔ لیکن اگر یہ نمو برقرار رہی اور چین میں برقی ٹرکوں کی پیش رفت اسی طرز پر چلتی رہی تو یہ ڈیزل کے استعمال اور کاربن اخراج میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔
چین میں برقی ٹرک 2021 میں تقریباً صفر سے بڑھ کر گزشتہ سال ٹرکوں کی فروخت کا 30 فیصد بن گئے، اور امسال کی پہلی ششماہی میں 140,000 برقی ٹرک فروخت ہوئے۔ چین میں ڈیزل کے استعمال میں کمی پچھلے سال شروع ہوئی تھی۔
یو نے کہا کہ Sany پہلے یورپ پر مرکوز تھا لیکن اب وہ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف مڑ رہا ہے اور سستے ماڈل تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون میں کمپنی نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی واحد شپمنٹ، 880 بھاری ٹرک روانہ کیے، اور کہا کہ وہ کنٹریکٹ نجی ہونے کی وجہ سے مقام ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
یو نے کہا، "تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پہلے، ان ممالک میں خریداروں کو ایک برقی بھاری ٹرک میں اپنی سرمایہ کاری کی وصولی میں شاید 28 ماہ لگتے،" "اب، صرف 18 ماہ لگتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ Sany کو توقع ہے کہ یہ جنگ خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کم از کم اگلے سال تک تیز نمو کو برقرار رکھے گی ۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ "توجہ مرکوز کرے گا"
امریکہ اور یورپ میں برقی ڈلیوری وینز تیزی سے معمول بن رہی ہیں، مگر بڑے برقی ٹرکوں کے نفاذ میں بہت سست رفتار رہی ہے۔
مثال کے طور پر ٹیسلا، جس نے تقریباً ایک دہائی قبل اپنے سیمی الیکڑک انجن کے ساتھ اقتصادیات میں انقلاب لانے کا عندیہ دیا تھا، اس نے اس سال تک ٹرک کی "بڑی مقدار میں پیداوار" کا ہدف ختم کر دیا ہے۔
"توانائی و صاف آب و ہوا کے تحقیقاتی مرکز" کے مطابق ڈیزل جلائے بغیر، چین کے برقی ٹرکوں کے بیڑے اس سال تیل کے 141 ملین بیرل کے مساوی بچت کریں گے، جو چین کی مجموعی کھپت کے 3 فیصد سے زیادہ ہے اور کویت سے تمام درآمدات کے برابر ہے۔
ہیلسنکی میں واقع اسی مرکز کا اندازہ ہے کہ سال کے پہلے نصف میں چینی برآمدات نے سالانہ بنیاد پر 1.6 ملین بیرل ایندھن کی جگہ لی۔
برقی ٹرکوں کو اپنانے میں رکاوٹوں میں اس کےء بلند نرخ اور چارجنگ انفراسٹرکچر کا خلا شامل ہیں۔
آسٹریلیا میں ایک برقی ٹرک کی قیمت تقریباً 350,000 ڈالر ہے، جو ڈیزل مساوی کے مقابلے میں دوگنی ہے، اگرچہ جنگ سے پہلے ہی ایندھن کی بچت نے آپریٹنگ لاگت کو ڈیزل کے مقابلے میں 70 فیصد تک کم کر دیا تھا۔
یو نے کہا چارجنگ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے، Sany گاہکوں کو بجلی پیدا کرنے، ذخیرہ کرنے اور اپنے ٹرک چارج کرنے کے لیے سسٹمز فروخت کر رہا ہے ۔
CREA (توانائی اور صاف ہوا پر تحقیق کا مرکز) کے شریک بانی لاوری مِلی وِرتا نے کہا ہے کہ بہت سے بازاروں میں چینی برقی مسافر گاڑیوں کا رحجان بھی چارجنگ نیٹ ورکس کو پھیلانے میں مدد دے گا اور ٹرکوں کی اپنائیت کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا، "ایندھن کی بلند قیمتیں توجہ مرکوز کریں گی اور کاروباری اداروں کو تیزی سے حرکت میں لے آئیں گی۔"


















