مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے ایران پر 'بہت شدید' حملوں کا اعادہ کیا ہے اور جنگ میں 'فتح' کا عندیہ دیا
امریکی صدر نے دوہرایا ہے کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر 'بہت شدید' حملوں کا اعادہ کیا ہے اور جنگ میں 'فتح' کا عندیہ دیا
امریکی صدر نے ان رپورٹوں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران پر “بہت سخت” حملے جاری رکھے گا، اور یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ میں “فتح” چاہتا ہے۔

جمعہ کو میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا، "ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں۔ ہماری کارکردگی بہت اچھی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہم جتنا ممکن ہو خوش طبع رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر انہیں شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ بہت سادہ سی بات ہے،کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔"

ٹرمپ نے مزید کہا، "ہم ایران پر بہت سخت حملے کریں گے، اور ایک موقع آئے گا جب وہ کہیں گے، بس کریں یم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔"

امریکی صدر نے ان رپورتوں کو بھی مسترد کر دیا جو یہ تجویز کرتی ہیں کہ ایران مضبوط موقف پر برقرار ہے۔

انہوں نے کہا، "ایران بہت بری حالت میں ہے۔ وہ بہت بے ایمانی دکھا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنا بہت ہی غیر شایانِ شان رہا ہے۔"

ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا موازنہ ویتنام اور افغانستان کی سابقہ امریکی جنگوں سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف پانچ ماہ سے ملوث ہے اور اس نے ایران کی عسکری صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: "میں ان پر سے اعتماد کھو رہا ہوں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم مذاکرات کے درمیان تھے۔ میں اسٹیو (وٹکوف) کے فون کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔ میں مذاکرات میں تھا، اور اس کے بجائے مجھے پیٹ (ہیگسیٹھ) کی کال آئی کہ انہوں نے ابھی حال ہی میں اردن کے ہمارے ایک اڈے پر پانچ میزائل داغے ہیں، اور ہمارے اردن میں اڈے ہیں۔"

ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر، وائس پریزیڈنٹ جے ڈی وینس اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔

امریکہ نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران کے مختلف حصوں میں متعدد حملے کیے ہیں، آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے جواب میں تھے۔ تہران نے جواب میں خلیج کے متعدد ممالک میں، بشمول اردن میں ایک امریکی اڈے کے، وہ امریکی فوجی سہولیات اور اڈے نشانہ بنائے جنہیں وہ ہدف قرار دیتا ہے۔

اس کشیدگی کے باوجود جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردہ فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد فروری میں شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ اور ایک پائیدار امن معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔

دریافت کیجیے
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا
دنیا جاپان سے ہوشیار رہے: شمالی کوریا
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات