شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے

آج کثیر تعداد میں گاڑیاں اور وزارتِ داخلہ کا عملہ حاسکہ میں داخل ہو گیا ہے اسی طرح کی کاروائی قامشلی میں بھی کی جائے گی: مروان علی

By
شام کے شہر قامشلی میں YPG دہشت گرد گروہ اور شامی فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد بے گھر شامی پناہ لینے کے لیے ایک سکول پہنچے۔ 29 جنوری 2026۔ / Reuters

شام کے سکیورٹی دستے ملک کے  شمال مشرقی صوبے ' الحسکہ '  کے شہر قامشلی میں داخل ہو جائیں گے۔

یہ بیان سلامتی دستوں کا شہر میں داخلہ ہونے سے چند گھنٹے بعد حسکہ داخلہ تحفظ کے سکیورٹی کمانڈر مروان العلی نے الاخباریہ ٹی وی  کے لئے جاری کیا اور دہشت گرد تنظیم YPG کے ساتھ طے پانے والے  معاہدے کے نفاذ کی خاطر سکیورٹی دستوں کے حاسکہ میں داخلے کی اطلاع دی ہے۔

مروان علی نے کوئی حتمی وقت بتائے بغیر کہا ہے" آج کثیر تعداد میں گاڑیاں اور وزارتِ داخلہ کا عملہ علاقے میں داخل ہو گیا ہے اسی طرح کی کاروائی قامشلی میں بھی کی جائے گی"۔

انہوں نے کہا ہے کہ" سمجھوتے کی شرائط نافذالعمل ہونے کے بعد پولیس  دستے اور وائے پی جی سے منسلک دیگر سکیورٹی فورس وزارت داخلہ کے تحت کر دی جائے گی۔ صورتحال غیر یقینی ہے لہٰذا   اشتعال انگیزیوں سے بچنے اور صحافیوں کے تحفظ کی خاطر ذرائع ابلاغ کو علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔

انہوں نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ " اس وقت الحسکہ میں موجود سکیورٹی دستے اپنی پوزیشنوں پر حاضر ڈیوٹی رہیں  گے اور اسی نوعیت کے ‘شہری نظم و ضبط کے محافظ’ دستے قامشلی میں بھی داخل ہو جائیں گے"۔

واضح رہے کہ الاخباریہ ٹی وی نے سوموار کی خبر میں کہا تھا کہ  داخلہ سلامتی فورس الحسکہ میں داخل ہوگئی ہے اور مقامی رہائشیوں نے اس کا گرمجوش استقبال کیا ہے۔

اناطولیہ خبر ایجنسی  کے  نامہ نگار  کے مطابق  داخلہ سلامتی  کا قافلہ الحسکہ کے مرکز کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔   دستوں  میں آٹھ بکتر بند گاڑیاں، چار عدد فور بائے فور  گاڑیاں، ایمبولینسیں اور موبائل کمیونیکیشن یونٹ  شامل تھے۔

معاہدے کے اطلاق کے دائرے میں شامی داخلہ سلامتی دستے ضلع  عین العرب کے جنوبی گاؤں شیوخ میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔

یہ اقدامات جمعہ کو حکومت کے اعلان کردہ 'جامع معاہدے' کے نفاذ کا حصہ ہیں۔ معاہدہ YPG دہشت گرد گروپ کے ساتھ  طے پایا تھا۔ معاہدے  کا مقصد ملک کی منقسم حالت کو ختم کرنا اور مکمل انضمام کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھنا ہے۔