شمالی کوریا میں جانشینی کے مباحث: کیا اگلی سربراہ جو۔اے ہیں؟
شمالی کوریا کی حزب اقتدار پارٹی کے ایک میگزین نے صدر کِم جونگ اُن کے جانشین سے متعلق چہ میگوئیاں شروع کروا دی ہیں: یونہاپ
شمالی کوریا کی حکمران جماعت سے منسلک ایک میگزین نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے ممکنہ جانشین کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے۔
جنوبی کوریا خبر ایجنسی یونہاپ کی بروز جمعرات شائع کردہ خبر کے مطابق شمالی کوریا کی حزب اقتدار پارٹی کے ایک میگزین نے صدر کِم جونگ اُن کے جانشین سے متعلق چہ میگوئیاں شروع کروا دی ہیں۔
یونہاپ نے کہا ہے کہ کِم کے لیے جانشین کی نامزدگی سے متعلقہ تحریر، لیبر پارٹی کے حکام کے لئے شائع ہونے والے "مزدور" نامی جریدے کے یکم مارچ 2025 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔
یونہاپ اس شمارے کو زمانہ قریب میں ہی حاصل کر سکا ہے۔
یہ خبر، 42 سالہ کِم کے اپنی چھوٹی بیٹی کے ہمراہ عوامی مقامات پر دِکھائی دینا شروع کرنے کے بعد سے، مرکزِ توجہ بن گئی ہے۔ اس چیز نے جانشینی کے بارے میں بھی سوالات پیدا کئے ہیں۔
جنوبی کوریا ذرائع ابلاغ کے مطابق کِم کی بیٹی کی تاریخ پیدائش 2012 ہے اور ان کا نام جو۔اے ہے۔
یونہاپ نے کہا ہے کہ اس میگزین میں "سیاسی سربراہ کی حیثیت اور کردار کو سنبھالنے والے جانشین کی نامزد گی اور صدر کی زندگی میں وارث کی تربیت" کے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔
جریدے کی تحریر میں اس مسئلے کو "ملکی قیادت کی جانشینی پر غور کے لیے مرکزی" قرار دیا گیا ہے تاہم خبر میں جو۔اے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
یونہاپ نے مزید کہا ہے کہ " جریدے میں، عوام کے احترام اور اعتماد اور جماعت کی اجتماعی رضامندی کے مطابق جانشین کی نامزدگی کو اور سربراہ کی زندگی میں جانشین کے قائدانہ کردار کی تعمیر کو قیادت کی وراثتی منتقلی کے معاملات میں مرکزی قرار دیا گیا ہے"۔
واضح رہے کہ پیانگ یانگ نے ملک کے موجودہ رہنما کے جانشین کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی بحث نہیں کی۔ موجودہ رہنما کِم کا تعلق حکمران خاندان کی تیسری نسل سے ہے۔
کِم نے 2011 میں اپنے والد اور شمالی کوریا کے دوسرے رہنما 'کِم جونگ اِل'کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔
موجودہ صدر کِم جونگ اُن کے دادا' کِم اِل سُنگ' شمالی کوریا کے بانی رہنما ہیں۔ انہوں نے 1945 میں جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کی بنیاد رکھی اور 1994 تک ملک پر حکمرانی کی۔