ایشیا
2 منٹ پڑھنے
شمالی کوریا میں جانشینی کے مباحث: کیا اگلی سربراہ جو۔اے ہیں؟
شمالی کوریا کی حزب اقتدار پارٹی کے ایک میگزین نے صدر کِم جونگ اُن کے جانشین سے متعلق چہ میگوئیاں  شروع کروا دی ہیں: یونہاپ
شمالی کوریا میں جانشینی کے مباحث: کیا اگلی سربراہ جو۔اے ہیں؟
(فائل) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان 12 دسمبر 2025 کو پیانگ یانگ، شمالی کوریا میں اپریل 25 ثقافتی اور سیاحتی مرکز میں تقریر کر رہے ہیں۔ / Reuters

شمالی کوریا کی حکمران جماعت سے منسلک ایک میگزین  نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے ممکنہ جانشین کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے۔

جنوبی کوریا خبر ایجنسی یونہاپ کی بروز جمعرات  شائع کردہ خبر کے مطابق شمالی کوریا کی حزب اقتدار پارٹی کے ایک میگزین نے صدر کِم جونگ اُن کے جانشین سے متعلق چہ میگوئیاں  شروع کروا دی ہیں۔

یونہاپ نے کہا ہے کہ کِم کے لیے جانشین کی نامزدگی سے متعلقہ تحریر، لیبر پارٹی کے حکام کے لئے شائع ہونے والے "مزدور" نامی جریدے کے یکم مارچ 2025 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔  

یونہاپ اس شمارے کو زمانہ قریب میں ہی حاصل کر سکا ہے۔

یہ خبر، 42 سالہ کِم کے اپنی چھوٹی بیٹی کے ہمراہ  عوامی مقامات پر دِکھائی دینا شروع کرنے کے بعد سے، مرکزِ   توجہ بن گئی  ہے۔ اس چیز نے جانشینی کے بارے میں بھی سوالات پیدا کئے ہیں۔

جنوبی کوریا ذرائع ابلاغ  کے مطابق کِم کی بیٹی کی تاریخ پیدائش 2012 ہے اور ان کا نام جو۔اے ہے۔

یونہاپ نے کہا ہے کہ اس میگزین میں "سیاسی سربراہ کی حیثیت اور کردار کو سنبھالنے والے جانشین کی نامزد گی  اور صدر کی زندگی میں  وارث کی تربیت"  کے الفاظ کا استعمال کیا  گیا ہے۔

جریدے کی تحریر میں  اس مسئلے کو "ملکی قیادت کی جانشینی پر غور  کے لیے مرکزی" قرار دیا گیا ہے تاہم خبر میں  جو۔اے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یونہاپ نے مزید کہا ہے کہ " جریدے میں، عوام کے احترام اور اعتماد اور جماعت کی اجتماعی رضامندی کے مطابق جانشین کی نامزدگی کو اور سربراہ کی زندگی  میں  جانشین کے قائدانہ کردار کی تعمیر کو قیادت کی وراثتی منتقلی کے معاملات میں   مرکزی قرار دیا گیا ہے"۔

واضح رہے کہ پیانگ یانگ نے ملک کے موجودہ رہنما کے جانشین کے بارے میں عوامی سطح  پر کوئی بحث  نہیں کی۔ موجودہ رہنما کِم کا تعلق حکمران خاندان کی تیسری نسل سے ہے۔

کِم نے 2011 میں اپنے  والد اور شمالی کوریا کے دوسرے رہنما 'کِم جونگ اِل'کے  انتقال  کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔

موجودہ صدر کِم جونگ اُن کے دادا' کِم اِل سُنگ' شمالی کوریا کے بانی رہنما ہیں۔ انہوں نے 1945 میں جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا  کی بنیاد رکھی اور 1994 تک  ملک پر حکمرانی کی۔

دریافت کیجیے
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز
ایران: دشمن ممالک کے جہازوں کو اجازت لینا پڑے گی
بحرین نے پاکستان کو ترکیہ، سعودی عرب کے ساتھ سہ فریقی  دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم  نے جنگ اور سیاست دونوں میں فتح حاصل کی ہے۔"
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ