ترکیہ: اقوام متحدہ کی بیس پر حملے کی مذّمت
ہم اس گھناونے حملے میں ہلاک ہونے والے بنگلہ دیشی امن دستے کے اہلکاروں کے لیے اللہ سے رحمت و مغفرت کے خواستگار اور زخمیوں کی عاجل صحت یابی کے متمنی ہیں: ترکیہ وزارتِ خارجہ
ترکیہ نے، آج بروز سوموار سوڈان میں اقوام متحدہ کے ایک اڈے پر اور بنگلہ دیشی امن دستے کے 6 اراکین کی ہلاکت ا ور 8 کے زخمی ہونے کا سبب بننے والے، ڈرون حملے کی مذّمت کی ہے۔
ترکیہ وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 'ہم اس گھناونے حملے میں ہلاک ہونے والے بنگلہ دیشی امن دستے کے اہلکاروں کے لیے اللہ سے رحمت و مغفرت کے خواستگار اور زخمیوں کی عاجل صحت یابی کے متمنی ہیں"۔
وزارتِ خارجہ نے سوڈان کی قومی وحدت و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور 'ملک میں جاری تنازعات کے پُر امن حل کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت' کا اعادہ کیا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب سوڈانی فوج اور پیراملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز 'RSF' کے درمیان جھڑپیں بلا توقف جاری ہیں۔ اپریل 2023 سے جاری ان جھڑپوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس خانہ جنگی کی وجہ سے ملک میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
سوڈانی فوج نے حملے کا الزام RSF پر لگایا ہے تاہم باغی گروپ کی جانب سے کوئی فوری تبصرہ موصول نہیں ہوا۔
ہلاک ہونے والے فوجی سوڈان اور جنوبی سوڈان کے زیرِ انتظام ،متنازع اور پیٹرول کی دولت سے مالا مال، علاقے میں فرائض ادا کرنے والی اقوامِ متحدہ عارضی امن فورس برائے ابیی (UNISFA) کا حصہ تھے ۔
گزشتہ ہفتے جنوبی سوڈان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سوڈانی فوج اور RSF کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کی سرحد کے قریب، مغربی کردوفان میں واقع ہیگلیگ تیل فیلڈ کی سکیورٹی جنوبی سوڈان پیپلز ڈیفنس فورسز (SSPDF) کے کنٹرول میں رکھی جائے گی۔
معاہدہ SSPDF کو ہیگلیگ میں تیل کی تنصیبات کے لیے 'بنیادی سکیورٹی ذمہ داری' فراہم کرتا ہے۔
علاقے میں UNISFA کے فرائض کی مہلت میں گذشتہ مہینے اضافہ کیا گیا تھا۔