امریکہ ایران جنگ کے لیے 10,000 اضافی فوجیوں کو بھیجنے پر غور کر رہا ہے

یہ اضافی افواج پہلے ہی اس خطے میں تعینات تقریباً 5,000 بحری پیادوں  اور 82ویں ایربورن ڈویژن کے ہزاروں پیراٹروپرز پر مشتمل ہو گی۔

By
خطے میں بھیجے گئے 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے تقریباً 5,000 میرینز اور ہزاروں پیراٹروپرز کے ساتھ مزید دستے شامل ہو جائیں گے۔ (فائل) / AP

میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں صدرِ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امن مذاکرات کے امکانات پر غور کرتے ہوئے زیادہ فوجی اختیارات فراہم کرنے کے لیے مزید دس ہزار تک بری فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

اس منصوبے سے  واقف محکمۂ دفاع کے حکام نے کہا کہ ممکنہ تعیناتی میں پیادہ فوجی دستے اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہوں گی۔

یہ اضافی افواج پہلے ہی اس خطے میں تعینات تقریباً 5,000 بحری پیادوں  اور 82ویں ایربورن ڈویژن کے ہزاروں پیراٹروپرز پر مشتمل ہو گی۔

یہ واضح نہیں کہ فوجیں کہاں تعینات ہوں گی، مگر حکام نے اشارہ دیا ہے کہ انہیں ایران اور خارگ جزیرے کے آپریشنل دائرے میں رکھا جا سکتا ہے، جو ملک کے ساحل کے قریب تیل برآمد کرنے کا ایک اہم مرکز ہے۔

ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ چاہے امریکی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہو یا نہ ہو، وہ  "آبنائے ہرمز" کو کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری انا کیلی نے کہا ہے کہ "فوجی تعیناتیوں سے متعلق تمام اعلانات محکمہ جنگ سے ہوں گے۔"

انہوں نے مزید کہا: "صدر ٹرمپ کے پاس ہمیشہ تمام فوجی اختیارات موجود ہیں۔"