اسرائیل کا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس نشانہ بن گیا
بیرشیبا کے قریب واقع کیمیکل فیکٹری کے گودام میں آگ لگ گئی تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا: اسرائیل حیوم
ایران نے، جوابی کارروائیوں میں، اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کیمیائی رساؤ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس سے قبل، ایران کے شہر بُوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے قریب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا اور تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا تھا۔ تاہم ری ایکٹر محفوظ رہا ہے اور کسی قسم کے تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران نے اس واقعے کو جارحانہ اقدام قرار دیا اور میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے جوابی حملے کئے ہیں۔
روزنامہ 'اسرائیل حیوم' کے مطابق 29 مارچ کو بیرشیبا کے قریب واقع ADAMA مکتیشم کیمیکل فیکٹری پر ایک میزائل یا میزائل کا ملبہ گرنے کے باعث گودام میں آگ لگ گئی تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
تہران نے اس حملے کو "محدود ردعمل" قرار دیا ہے لیکن اس سے خطے میں جوہری اور کیمیائی تنصیبات کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اخبار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ حملے "اتفاقی نہیں"تھے۔ 'رامات حوفاو' کا علاقہ اسرائیل کے بڑے ترین کیمیکل اور پیٹروکیمیکل صنعتی مراکز میں سے ایک ہے اور اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
اخبار میں کہا گیا ہےکہ "اس مقام پر کسی بھی میزائل حملے سے، چاہے وہ تباہ کن نہ بھی ہو، نفسیاتی اثرات اور عوامی دباؤ کے ساتھ ساتھ ممکنہ ماحولیاتی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔"
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپلیکس کے' بیرشیبا' اور اس کےگردو نواح کی آبادیوں کے قریب ہونے نے کسی خطرناک رساؤ یا شدید نقصان کی صورت میں بڑی تعداد میں لوگوں کے متاثر ہو سکنے سے متعلقہ خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ حملے ایران میں پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کئے گئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کرنے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کے سابق مذہبی رہنما علی خامنہ ای سمیت اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔
جوابی کاروائی میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔