ایران کے مشرق وسطیٰ پر اور امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز پر تہران کی حاکمیت پر بات چیت کے لئے اجلاس بلانے کی تیاریوں میں

By
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ توانائی کی سلامتی پر عالمی تشویش بڑھ گئی۔ [فائل فوٹو] / Reuters

تہران نے مشرق وسطیٰ میں مختلف اہداف پر حملے کئے اور جمعہ کو علی الصبح امریکہ اور اسرائیل نے فضائی حملوں کے ذریعے ایران کو نشانہ بنایا ہے۔

 جنگ پانچواں ہفتہ پورا کرنے کو ہے لیکن حملوں کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس دوران  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز پر تہران کی حاکمیت پر بات چیت کے لئے اجلاس بلانے کی تیاری کر رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے "ایران کی فوجی صلاحیتوں  کی تقریباً مکمل  تباہی" کے دعووں کے باوجود  تہران،  اسرائیل اور اپنے خلیجی عرب پڑوسیوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بحرین اور کویت دونوں نے جمعہ کی صبح ایران کی جانب سے شدید گولہ باری کی اطلاع دی اور  اسرائیل نے  بھی نئے  میزائل حملوں کی وارننگ  جاری کی ہے۔

 ایکٹیوسٹوں نے تہران اور وسطی شہر اصفہان کے گرد ونواح میں حملوں کی اطلاع دی ہے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خلیجی خطے میں  توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز پر اس کی سخت گرفت نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اس صورتحال سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق برنٹ کروڈ کی قیمت جمعہ کی صبح 109 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ یہ ضافہ  28 فروری  کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد  سے اب تک کا  50 فیصد سے زیادہ  اضافہ ہے ۔

سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں سیکورٹی کے معاملے پر غور کرے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز  کی بندش کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا اور کہا ہے کہ آبی درّے  کو دوبارہ کھولنا اب واشنگٹن کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ رواں ہفتے جاری کردہ بیان میں بھی ٹرمپ نے  کہا تھا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز سے آنے والے ایندھن پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، انہیں "حوصلہ کر کے  آبنائے کو خود کھولنا" چاہیے۔

توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہفتے کے روز بحرین کی جانب سے پیش کردہ اور جہازوں کے محفوظ سفر کی یقین دہانی  کے لیے دفاعی کارروائی کے اختیار کی تجویز پر رائے شماری  کرے گی۔ بحرین نے مسودہ بِل  میں آبنائے میں محفوظ سیر و سفر کے لیے  ممالک کو "تمام ضروری ذرائع استعمال کرنے" کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاہم سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے ممالک روس، چین اور فرانس نے طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔

جمعرات کو جنوبی کوریا میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون نے کہا کہ امریکہ کی یہ توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ میکرون نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن "لامحدود وقت لے گا اور وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو ایرانی پاسداران انقلاب کی ساحلی دھمکیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا"۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے کو دوبارہ کھولنا "صرف ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور ممکنہ جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے"۔

برطانیہ کی زیرِ صدارت  اور 40 سے زائد ممالک کی شرکت سے منعقدہ  مذاکرات میں آبنائے کی حفاظت کے لیے فوجی نہیں بلکہ سیاسی ذرائع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ امریکی شرکت کے بغیر منعقدہ ان مذاکرات میں ممالک نے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے اور ممکنہ پابندیوں کی حمایت کی ہے۔

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

جنگ کے دوران ایران میں 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل میں 19 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی  ہے۔ خلیجی ممالک اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 20 سے زائد افراد اور 13 امریکی فوجی اہلکار  ہلاک ہوچکے ہیں۔ لبنان میں، جہاں اسرائیل نے زمینی حملہ شروع کر رکھا ہے، 1300 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لبنان میں 10 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔