ایران: مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے

حالیہ دنوں کی سخت کشیدگی کے بعد امریکہ کے ساتھ تناؤ میں کمی کی کوششوں میں پیشرفت ہورہی ہے: علی لاریجانی

By
(فائل) ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی 15 نومبر 2024 کو بیروت، لبنان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ / Reuters

ایران دفاعی کونسل کے سیکرٹری  علی لاریجانی  نے کہا ہے کہ "حالیہ دنوں کی سخت کشیدگی کے بعد امریکہ کے ساتھ تناؤ میں کمی کی کوششوں میں پیشرفت ہورہی ہے۔

ہفتے کے دن سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں  علی لاریجانی نے کہا  ہےکہ" مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے"۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ کی 'جنگ کے موضوع' پر  کی گئی 'غیر حقیقی مبالغہ آرائی' کو بھی مسترد کیا ہے۔

لاریجانی کے یہ بیانات ، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مصالحت اور کشیدگی میں  کمی کی خاطر کئی علاقائی ممالک اور خصوصاً ترکیہ کی زیرِ قیادت جاری، بھاری سفارتی کوششوں کے دوران جاری کئے  ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی  نےجمعہ کے دورہ استنبول کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان اور اپنے ہم منصب وزیرِ خارجہ خاقان فیدان  کے ساتھ مذاکرات کئے تھے۔

لاریجانی نے خود بھی ایک  مختصر دورہ ماسکو کے دوران  روس کے  صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بندکمرے کی ملاقات کی تھی۔

اگرچہ ملاقات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں لیکن کریملن نےملاقات  کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشہ مہینے ایران میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ایران۔امریکہ کشیدگی بھی عروج پر رہی اور  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ "ہم ایرانی مظاہرین کی مدد کو آئیں گے"۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ٹرمپ نے ایک اور امریکی بحری بیڑے کے ایران کی طرف روانہ ہونے کا اعلان کیا اور خبردار کیا تھا  کہ تہران کو فوری طور پر مذاکراتی میز پر آ جانا اور  اپنے جوہری عزائم سے باز آجانا چاہیئے۔

ایرانی حکام نے،عراقچی کی  اپنے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد جاری کردہ  بیان سے ہم آہنگ شکل میں، 'باہمی احترام' کی بنیاد پر مذاکرات پر آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔

مذکورہ بیانات کے ساتھ متوازی شکل میں  ایرانی فوجی کمانڈروں نے بھی بیان جاری کیا اور کہا ہے کہ مسلح افواج پوری  طرح چوکس ہیں اور امریکہ یا اسرائیل کے کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کا عزم رکھتی ہیں۔