انڈونیشیا: غم کے مارے والدین اپنے بچوں کے ملبے تلے سے زندہ نکالے جانے کے منتظر ہیں
ایک زیر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت کے گرنے سے، جو کہ سیڈوارجو کے قصبے میں واقع تھی، کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے
انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں امدادی ٹیمیں ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف تھیں تو زمین بوس ہونے والی اسکول کی عمارت کے قریب درجنوں والدین دعاوں کے ساتھ اپنی اپنی اولادوں کے منتظر تھے ۔
ایک زیر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت کے گرنے سے، جو کہ سیڈوارجو کے قصبے میں واقع تھی، کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے مطابق 38 افراد لاپتہ ہیں۔
قویمہ، جو 42 سالہ ماں ہے ، منہدم بورڈنگ اسکول کے باہر زار و قطار رو رہی تھیں اور اپنے 15 سالہ بیٹے کی خبر کے لیے بے چین تھیں۔
انہوں نے کہا، "مجھے سب سے پہلے اس حادثے کے بارے میں اپنے رشتہ داروں سے معلوم ہوا جو یہاں کے قریب رہتے ہیں۔ میں چونک کر رہ گئی ۔" میں دور تھی، کچھ کر نہیں سکتی تھی۔"
انہوں نے کہا، "میں مزید انتظار نہیں کر سکتی تھی، میں بے چین ہو گئی اور خود آ کر دیکھنے کا فیصلہ کیا۔" قویمہ منگل کے روز پہنچیں، جو عمارت گرنے کے ایک دن بعد کا دن تھا۔
انہوں نے کہا، "میں بہت پریشان ہوں۔"
نئی تعمیر
امدادی ٹیمیں زمین پر کام کر رہی تھیں کہ قریب ساحل کے پاس رات کے وقت آنے والے زلزلے نے ان کے کام کو مختصر وقت کے لیے روک دیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایک اسکول کے عہدیدار نے کہا کہ تعمیراتی کام پچھلے نو مہینوں سے جاری تھا۔
قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے ترجمان عبدالمہاری کے مطابق، عمارت اس وقت گری جب اس کی بنیاد کے ستون چوتھی منزل پر نئی تعمیر کے وزن کو سہارا دینے میں ناکام ہو گئے۔
انڈونیشیا میں ناقص تعمیراتی معیار نے عمارتوں کی حفاظت کے حوالے سے وسیع پیمانے پر خدشات کو جنم دیا ہے، جہاں یہ عام بات ہے کہ ڈھانچوں — خاص طور پر گھروں — کو جزوی طور پر مکمل چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ مالکان بعد میں اپنے بجٹ کے مطابق اضافی منزلیں شامل کر سکیں۔
اسی ماہ کے آغاز میں، مغربی جاوا صوبے میں ایک عمارت، جہاں دعائیہ رسم ہو رہی تھی، گرنے سے کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔