دنیا
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل: مصر کی فوجی طاقت پر نظر رکھنا ضروری ہے
مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہمیں عسکری طاقت میں حد سے زیادہ اضافے کو روکنا ہوگا: نیتن یاہو
اسرائیل: مصر کی فوجی طاقت پر نظر رکھنا ضروری ہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ کو ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور تہران کی میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنے پر اکسا رہا ہے۔ (فائل فوٹو) / Reuters
6 فروری 2026

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مصر کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں خبردار کیا اور کہا ہے کہ ان پر بغور نگاہ رکھی جانی چاہیے۔

روزنامے 'اسرائیل ہایوم' کے مطابق نیتن یاہو نے مصر کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں خبردار کیا اور کہا  ہے کہ میں نہیں جانتا صدر ٹرمپ کا ایران کے بارے میں  حتمی فیصلہ  کیا ہو گا۔

خبر کے مطابق  نیتن یاہو نے جمعرات کو کنیسٹ کی خارجہ اور دفاعی کمیٹی کے بند کمرے کے اجلاس میں کہا ہے کہ مصری فوج اپنی قوت بڑھا رہی ہے، اور اس کو نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں لیکن ہمیں عسکری طاقت میں حد سے زیادہ اضافے کو روکنا ہوگا"۔

خبر کے لئے اخبار کے استعمال کردہ  ذرائع  کے مطابق یہ بیانات  اسرائیل ۔مصر  تعلقات کی حساسیت پر جاری مباحث کے دوران  جاری کئے گئے ہیں۔

مذکورہ تنبیہ کے باوجود، دسمبر میں اسرائیل اور مصر کے درمیان تقریباً 35 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے گئے اور  نیتن یاہو نے اسے اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ قرار دیا تھا۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، اسی کمیٹی اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے ایران اوراسرائیل کی  امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے معاملات پر بھی بات کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی  واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی "ممکنہ حد تک اعلیٰ ترین  سطح" پر ہے۔ تاہم  انہوں نے ٹرمپ کے ایران سے متلعقہ  حتمی موقف کےبارے میں  غیر یقینی کیفیت کا   اعتراف بھی  کیا ہے۔

اسمبلی ممبران سے خطاب میں نیتن یاہو نے   کہاہے کہ ایرانی حکومتی نظام کے زوال کا سبب بننے والے انتہائی اہم مرحلے  لئے موزوں حالات  پیدا ہو رہے ہیں تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ مرحلہ تہران حکومت کا تختہ اُلٹ سکے گا یا نہیں۔  

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے  کہ اگر اسرائيل پر حملہ ہوا تو ہم، ایران کے خلاف "بہت بڑا اور سخت" حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس دفعہ کی کوئی بھی جوابی کاروائی گذشتہ جون کی کاروائی سے ہر لحاظ سے بڑی ہو گی۔

ازلی دشمن

واضح رہے کہ گذشتہ سال  ان ازلی دشمنوں  کے درمیان  12 روزہ جنگ ہوئی تھی۔

جنگ ایک بھاری  اسرائیلی حملے سے شروع ہوئی جس نے ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

امریکہ نے بھی تین ایرانی جوہری مقامات پر حملے کر کے اسرائیلی  کارروائیوں میں حصہ لیا اور اس کے بعد ٹرمپ کی طرف سے شروع کردہ ایک جنگ بندی نافذ العمل ہوگئی۔

اپریل 2024 میں، غزہ میں جاری  نسل کشی کے دوران، ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک بھاری  ڈرون اور میزائل حملہ کیا تھا۔

یہ حملہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر مہلک حملے کے  جواب میں کیا گیا تھا۔

کئی ماہ  بعد، یکم اکتوبر کو، ایران نے حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیل پر 200 میزائل فائر کئے تھے۔

دریافت کیجیے
چین میں بڑے سیاسی اجلاس شروع ہوگئے
امریکہ: 9,000 امریکی شہری مشرق وسطی سے نکل گئے
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت ہم کریں گے: ٹرمپ
امریکی-اسرائیلی جنگ ایران پر امریکی فوجی تعمیر میں آخری چند دہائیوں میں سب سے بڑی ہے: سی ای این ٹی سی او ایم
جنوبی کوریائی بحریہ کے افسر کو مارشل لا کی ناکام کوشش کے الزام میں معطل کر دیا گیا
ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 4 دنوں میں امریکی نقصان 2 بلین ڈالر
پاکستان کا افغان چوکیوں پر حملہ،متعدد افغان فوجی ہلاک
ترکیہ کی فضائی کمپنیوں  نے 6 مارچ تک تمام پروازیں معطل کر دیں
ہم، ایرانی شہریوں کو درپیش تکالیف کی مذّمت اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں: اردوعان
ٹرمپ کا جنونی پن دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں جھونک دےگا:روس
ایران میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد سے ابتک 6 امریکی عسکری اہلکار ہلاک
اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی معطل کر دی:اقوام متحدہ
آبنائے ہرمز سے جو جہاز گزرے گا وہ تباہ ہوگا:ایران
خامنہ آئی کی موت سےحالات بگڑ گئے،شمالی علاقہ جات میں کرفیو نافذ
کویت میں امریکی F-15طیارہ گر گیا،پائلٹ محفوظ