متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں

متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگش نے یہ بات نگل کو دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس کے  سلسلے کے ایک پینل میں کہی۔

By
"میرا خیال ہے کہ یہ خطہ مختلف تباہ کن محاذ آرائیوں سے گزرا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ہمیں مزید ایک کی ضرورت ہے،" گرگاش نے کہا۔ / Reuters

مشرق وسطی  کا علاقہ امریکہ اور ایران کے درمیان مزید تصادم نہیں چاہتا اور تہران کو واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہیے۔

 متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگش نے یہ بات نگل کو دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس کے  سلسلے کے ایک پینل میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں خطہ مختلف تباہ کن جھڑپوں سے گزر چکا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم مزید  ایک کے محتمل ہو سکتے ہیں، مگر میں چاہوں گا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات ایسے سمجھوتوں تک پہنچائیں کہ ہم ہر دوسرے دن ان مسائل کا سامنا نہ کریں۔"

ایرانی اور امریکی حکام نے پیر کو بتایا کہ ایران اور امریکہ جمعہ کو ترکیہ میں جوہری بات چیت دوبارہ شروع کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی استنبول میں ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں طویل المدتی تنازعے پر سفارتکاری کو بحال کیا جا سکے اور ایک نئی علاقائی جنگ کے خدشات کو دور کیا جا سکے، جب کہ ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کے نمائندے بھی  اس عمل میں شرکت کریں گے۔

یہ منصوبہ بند مذاکرات ٹرمپ کی عسکری کاروائیوں کے بعد  تہران سے فوری مذاکرات میں شامل ہونے کے مطالبے کے بعد  طے پائے ہیں۔

ٹرمپ نے بعد ازاں کہا تھا کہ  ایران 'سنجیدگی سے' امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، یہ تناؤ اُس وقت بڑھا جب ایران میں حکومت مخالف احتجاجات دسمبر کے اواخر میں شروع ہوئے، جن کی وجہ ریال کا انہدام، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے حالات کا خراب ہونا بتایا جاتا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا 'تیز اور جامع' جواب دیا جائے گا۔

منصفانہ اور مساوی مذاکرات

ایران کے صدر مسعود پزِیشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک کے وزیرِ خارجہ کو 'عزت، احتیاط، اور مصلحت' کے اصولوں پر مبنی 'منصفانہ اور مساوی مذاکرات' کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پزِیشکیان نے منگل کو سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ہدایت 'خطے میں دوست حکومتوں کی درخواستوں کے پیشِ نظر' جاری کی گئی، جنہوں نے ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی تجویز کا جواب دینے کا زور دیا تھا۔

انہوں نے تاہم زور دیا کہ کسی بھی بات چیت کے لیے دھمکیوں اور 'غیر معقول توقعات' سے پاک 'مناسب ماحول' درکار ہوگا، اور مذاکرات 'ہمارے قومی مفادات کے دائرے' کے اندر ہونے چاہئیں۔

پیر کو  بعض ایرانی میڈیا  اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ پزِیشکیان نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کا حکم دیا تھا، جو جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

جون 2025 میں، اسرائیل نے واشنگٹن  کے تعاون سےایران پر 12 روزہ حملہ کیا جس میں عسکری اور جوہری تنصیبات کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا اور سینئر کمانڈروں اور سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا۔ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی عسکری اور خفیہ اداروں کے مقامات پر حملے کر کے جواب دیا، اس کے بعد امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی ایک لہر چلائی۔