جاوا میں آتش فشاں پھٹنے سے بے گھر ہونے والے عارضی پناہ گاہوں کی تلاش میں، امدادی کاروائیاں جاری
آفات ایجنسی کے عہدیدار کے مطابق تقریباً 900 افراد کو اسکولوں، مساجد اور گاؤں کی ہالوں میں پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
جاوا کے مرکزی جزیرے پر واقع ایک آتش فشاں پھٹنے کے بعد سینکڑوں انڈونیشیائی عارضی پناہ گاہوں میں قیام کر رہے ہیں حکام کے مطابق سرکاری اہلکاروں نے اس کی ڈھلوانوں سے تقریباً 190 افراد کو محفوظ مقامات کو منتقل کیا۔
مشرقی جاوا میں واقع کوہ ِ سیمیرو بدھ کی دوپہر کو پھٹا جس سے راکھ اور گیس 13 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے تک پھیل گئی، جس کے باعث حکام نے الرٹ کی سطح سب سےبلند درجے تک بڑھا دی۔
انڈونیشیا کے جیالوجیکل ادارے کے مطابق جمعرات کو آتش فشانی حرکت عموماً کم سطح کی تھی مگر پھر بھی متغیر رہی۔
زلزلہ و آفات کے ادارے کے اہلکارسلطان صیافت نے کہا ہے کہ آتش فشانی کے بعد تقریبا 900 افراد کو اسکولوں، مساجد اور دیہاتی ہالوں میں قائم کردہ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔
حکام جمعرات کو آتش فشاں کے ڈھلوانوں سے تقریباً 190 افراد کو بھی منتقل کر رہے تھے، جن میں زیادہ تر وہ ہائیکرز تھے جو آتش فشاں پھٹنے کے بعد کیمپ سائٹ پر پھنس گئے تھے۔
جب سمیرو 2021میں پھٹا تھا تو اس واقعے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور 5,000 سے زیادہ گھر متاثر ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں تقریباً 10,000 افراد کو پناہ گاہیں تلاش کرنا پڑی تھی۔
انڈونیشیا پیسفک کے 'رِنگ آف فائر' پر واقع ہے، جہاں براعظمی پلیٹوں کے ملاپ کی وجہ سے نمایاں آتش فشانی اور زلزلہ خیزی پائی جاتی ہے۔
اس جنوب مشرقی ایشیائی جزیرہ نما ملک میں تقریباً 130 فعال آتش فشاں موجود ہیں۔