اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے لئے ایک دھچکا ہیں: لازارینی
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تازہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے لئے ایک نیا دھچکا ہیں اور کنٹرول کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں: فلپ لازارینی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے سربراہ فلپ لازارینی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تازہ اقدامات پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے لئے ایک نیا دھچکا ہیں اور کنٹرول کو مزید گہرا کرنے اور تشدد کو ہوا دینے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں۔
یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہےکہ اتوار کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے منظور کردہ اقدامات 'بستیوں کے تیز رفتار پھیلاؤ' کا راستہ ہموار کریں گے اور فلسطینی امکانات کو مزید کمزور کریں گے۔
لازارینی نے بروز منگل ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ اقدامات بڑھتے ہوئے قبضے، مایوسی اور تشدد کے لئے ایک نسخے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا ہےکہ یہ فیصلے خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں اور ان کے عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی کوششیں
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر نافذ کردہ قانونی و سول فریم ورک میں بعض تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔
ان تبدیلیوں میں اسرائیلی افراد کے ہاتھ زمین کی فروخت کی ممانعت کے قانون کی منسوخی، زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کھولنا اور الخلیل کے نزدیک ایک بستی کے تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی بلدیہ سے اسرائیل کی سول ایڈمنسٹریشن کو منتقل کرنا شامل ہے۔
ان اقدامات کوایک ایسے علاقے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے جسے فلسطینی مستقبل کی آزاد ریاست کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کا پھیلاؤ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
یہ تازہ اقدامات پہلے ہی کئی ماہ سے بڑھتے ہوئے تشدد کی لپیٹ میں آئے ہوئے خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔