آرٹیمیس II زمین پر واپسی کی تیاریوں میں

اس ہفتے کے آغاز میں، امریکی ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ، کینیڈین جیریمی ہینسن کے ساتھ کسی بھی انسان سے زیادہ دور تک گئے۔ اس مشن کو مستقبل میں انسان بردار قمری لینڈنگز اور اس سے آگے کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے

By
آرٹیمیس دوم / AP

آرٹیمس II کے خلانوردوں نے ایک تاریخی قمری فلائی بائی انجام دی، قیمتی ڈیٹا جمع کیا اور چاند کے بے مثال مناظر دیکھے، لیکن ان کے 10 روزہ مشن کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ابھی باقی ہے ۔

اس ہفتے کے آغاز میں، امریکی ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ، کینیڈین جیریمی ہینسن کے ساتھ کسی بھی انسان سے زیادہ دور تک گئے۔ اس مشن کو مستقبل میں انسان بردار قمری لینڈنگز اور اس سے آگے کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

ان کا منصوبہ ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق شام 5:07 بجے سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اسپلش ڈاؤن کریں گےجس کے بعد ناسا اور فوج ان کی مدد کریں گے کہ وہ کیپسول سے باہر آئیں اور انہیں ایک ریکوری جہاز تک لے جایا جائے گا۔

ان کا سفر سنگِ میلوں سے بھرپور رہا ہے اور اس کے نتیجے میں شاندار تصاویر سامنے آئی ہیں جنہوں نے زمین پر لوگوں کے تخیل کو مسحور کر دیا ہے۔

ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امیت کھشتریہ نے جمعرات کو ایک بریفنگ میں کہا  کہ لیکن جب تک خلانورد محفوظ طریقے سے واپس گھر نہیں پہنچ جاتے، کامیابی کی بات کرنا قبل از وقت ہے،

  اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہم اس وقت جشن منانا شروع کر سکتے ہیں جب ہمارے پاس عملہ بحفاظت جہاز کے میڈ بے میں ہو،یہی وہ وقت ہے جب ہم جذبات کو غالب آنے دے سکتے ہیں اورکامیابی کے بارے میں بات کرنا شروع کر سکتے ہیں۔"