شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا

وائے پی جی دہشت گرد تنظیم نے الحسکہ میں کم از کم 23 مقامی رہائشیوں کو حراست میں لے لیا ہے

By
شامی سرکاری افواج 2 فروری 2026 کو وائی پی جی کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے تحت حسکہ میں داخل ہو گئیں۔ / Anadolu Agency

وائے پی جی دہشت گرد تنظیم نےبروز  اتوار شام کے شمال مشرقی شہر الحسکہ میں کم از کم 23 مقامی رہائشیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اناطولیہ خبر ایجنسی نے جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ  امریکی حمایت یافتہ معاہدے کے تحت شام وزارت داخلہ سے منسلک سکیورٹی فورس کے الحسکہ شہر میں داخلےکے وقت ان کے  استقبال  کے لیے سڑکوں پر نکلنے والے  شہریوں  کو حراست میں لے لیا ہے۔

خبر کے مطابق  الحسکہ کے مرکز میں 21 افراد کو ،  رمیلان میں ایک اور المابدے میں بھی  ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ حراستیں ، اس دہشت گرد گروہ کی شہریوں کے خلاف جاری پُر تشدد کاروائیوں  اور دھمکیوں کے تسلسل کی کڑی ہیں۔ ان کاروائیوں  میں جنگ بندی معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔

اتوار کو الاخباریہ ٹی وی  کی بروز اتوار جاری کردہ خبر کے مطابق  YPG کے دہشت گردوں نے فعال جنگ بندی  کے باوجود محصور علاقوں سے فرار کی کوشش کرنے والے شہریوں پر فائرنگ بھی کی تھی۔

گذشتہ ہفتے، گروپ کی فورسز نے الحسکہ شہر اور قامشلی کے دیہی علاقے کے گاؤں الغریقہ میں الگ الگ حملوں میں دو نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ الاخباریہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد الدرْباسیہ کے نزدیک دیہات پر YPG کی چھاپہ مار کارروائیوں کی لہر چلی، جہاں متعدد نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔

YPG اور شامی حکومت کے درمیان تازہ معاہدہ ایسی شقوں پر مشتمل ہے جو مسلح مظاہروں پر پابندی، اسلحہ کو اندرونی سکیورٹی فورسز تک محدود رکھنے اور YPG کی فورسز کو شمال مشرقی شام میں فرات کے مشرقی علاقوں کی طرف پسپا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس میں مرکزی الحسکہ کے عوامی اداروں کو دمشق حکومت کے اداروں کے ساتھ ضم کرنے کا بھی انتظام شامل ہے اور موجودہ ملازمین کو ریاستی پے رول میں شامل کر لیا جائے گا۔

شامی حکومت نے دسمبر 2024 میں بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد، جو کہ 24 سال تک برسرِ اقتدار رہنے کے بعد ہوا، ملک گیر سطح پر سکیورٹی بحال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔