غزہ: اسرائیلی فوج نے 3 بچوں سمیت 9 فلسطینی قتل کر دیئے
اسرائیل نے غزّہ پر فضائی حملے اور توپ فائرنگ کر کے 3 بچوں سمیت 9 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے: فلسطین سول ڈیفنس
اسرائیل نے آ ج بروز بدھ غزّہ پر فضائی اور توپ حملے کر کے 9 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔
فلسطین سول ڈیفنس ایجنسی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل نے غزّہ پر فضائی حملے اور توپ فائرنگ کر کے 3 بچوں سمیت 9 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ حملوں میں کم از کم 31 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق یہ جانی نقصان غزہ بھر میں متعدد حملوں اور گولہ باری کا نتیجہ ہے۔
اسرائیلی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے اس کے فوجیوں پر فائرنگ کئے جانے اور ایک اسرائیلی افسر کے زخمی ہونے کے بعد کئےگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے کو غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کے فوجیوں پر حملہ 'ییلو لائن' کے نزدیک ہوا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے باوجود اسرائیلی فوج غزّہ میں فائر بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنگ بندی کے نفاذ کے بعد 10 اکتوبر سے تاحال اسرائیلی فوج 523 فلسطینیوں کو قتل کر چُکی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اسی دورانیے میں اس کے چار سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
غزّہ میں ہفتے کا دن سب سے زیادہ ہلاکتوں والے دنوں میں سے ایک تھا۔ سول ڈیفنس ایجنسی نے کم از کم 37 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی اور اسرائیلی فوج نے کہا ہےکہ یہ حملے حماس کی جنگ بندی خلاف ورزی کے جواب میں کیے گئے تھے۔
ایجنسی کے مطابق خان یونس کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملوں نے خیموں اور گھروں کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں تین لاشیں ناصر اسپتال لائی گئیں۔مذکورہ سے مشابہہ حملوں کے نتیجے میں علاقے کے سب سے بڑے شہری مرکز 'غزہ سٹی'سے مزید چھ لاشیں الشفا اسپتال منتقل کی گئی ہیں ۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے منگل کو القدس میں اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں نیتن یاہو نے اصرار کیا ہے کہ تعمیرِ نو شروع ہونے سے پہلے حماس کو غیر مسّلح کیا جائے اور غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی بنایا جائے۔