پیٹرول کے نرخ امریکی-ایرانی مذاکرات پر نظر رکھتے ہوئے مستحکم پوزیشن پر ہیں
تاجر حضرات مشرق وسطی کی تنازعات اور آنے والے امریکہ-ایران کے جوہری مذاکرات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ اوپیک+ نے موسم گرما کی طلب سے پہلے ممکنہ پیداوار میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
سرمایہ کار رسد میں ممکنہ خلل کے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں تو پیٹرول کی قیمتیں منگل کو مستحکم رہیں ، بعد ازاں اسی دن ایران نے خلیج ہرمز کے نزدیک بحری مشقیں کیں جو امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات سے بالکل قبل ہوئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ جنیوا میں مذاکرات میں "بالواسطہ" طور پر شامل ہوں گے اور ان کا خیال ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ہفتے کے اختتام پر، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی "سب سے اچھی چیز ہوگی جو ہو سکتی ہے۔"
برینٹ کروڈ آئل میں پیر کے روز 1٫3 فیصد کے اضافے کے بعد آج اس میں 0٫2 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ آئل 1٫34 فیصد کے اضافے کے ساتھ 63.73 ڈالر فی بیرل پر تھا۔ آج امریکہ میں یوم ِ صدر کی چھٹی ہے ۔ جس بنا پر آج کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
کئی بازار منگل کو چینی قمری نئے سال کی تعطیلات کی وجہ سے بند ہیں، جن میں چین، ہانگ کانگ، تائیوان، جنوبی کوریا اور سنگاپور شامل ہیں۔
اے این زی کے تجزیہ کار ڈینیئل ہائنز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا: "مارکیٹ، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کے ماحول میں اتار چڑھاو کی شکار ہے۔"
"اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوئی، یا یوکرین کے معاملے میں معنی خیز پیش رفت ہوئی، تو فی الحال تیل کی قیمتوں کو در پیش خطرہ تیزی سےٹل سکتا ہے۔ تاہم، کوئی منفی نتیجہ یا اضافی جنگ تیل کے لئے صعودی ثابت ہو سکتی ہے۔"
ایران نے پیر کو خلیج ہرمز میں ایک فوجی مشق شروع کی، جو ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ اور خلیجی عرب ریاستوں کے لیے تیل برآمد کرنے کا راستہ ہے، ان ریاستوں نے تنازعہ ختم کرنے کے لیے سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔
ایران اپنی خام پیداوار کا زیادہ حصہ اسی گزرگاہ کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جیسا کہ اوپیک کے دیگر اراکین سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کرتے ہیں، اور یہ برآمدات بنیادی طور پر ایشیا کو جاتی ہیں۔
اگر روسی رسد میں رکاوٹوں کی وجہ سے اگلے چند ماہ میں برینٹ پیٹرول 65 تا 70 ڈالر فی بیرل کے دائرے میں رہا تو اوپیک پلس ممکنہ طور پر فاضل صلاحیت سے پیداوار بڑھانے کے ذریعے ردعمل کا مظاہرہ کرے گا۔
تین اوپیک پلس ذرائع نے کہا کہ اوپیک پلس اپریل سے پیداوار میں اضافے کی بحالی کی طرف مائل ہو رہا ہے، کیونکہ گروپ موسمِ گرما کی بلند ترین طلب کے لیے تیاری کر رہا ہے اور امریکہ-ایران تعلقات پر کشیدگی قیمتوں میں مضبوطی کو تقویت دے رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے "ہماری بنیادی صورتِ حال یہ ہے کہ ایران اور روس-یوکرین سے متعلق معاہدے اس سال کے موسمِ گرما تک یا اس دوران ہو جائیں گے، جو برینٹ کی قیمت کو 60-62 ڈالرفی بیرل تک کم کرنے میں حصہ ڈالیں گے۔"